03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹے اور6 بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم
80807میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

نواب علی صاحب کی اہلیہ کا 2004 میں ہوگیا. ان کے ورثاء میں 1 بیٹا اور 6 بیٹیاں تھیں،ان میں ترکہ  کیسے تقسیم ہوگا؟

نوٹ: شوہرمرحوم اورایک بیٹے مرحوم کاترکہ ابھی تقسیم نہیں ہواہے،اس کواب تقسیم کیاجارہاہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ نے انتقال کے وقت  جائیداد سمیت جومنقولہ اورغیرمنقولہ سامان اورنقدرقم چھوڑی ہے(اس میں نواب علی اوروقار مرحوم سے حصہ میں ملنے والامال بھی شامل ہوگا)،اس میں سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات اداکئے جائیں،اگریہ اخراجات کسی وارث نےاحسان کے طورپراداکردئیے ہیں تواس صورت میں یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے، اس کے بعددیکھیں اگر  ان کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں، اس کے بعددیکھیں اگرمرحومہ نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں،اس کے بعد  باقی مال کوموجود ورثہ میں تقسیم کردیں۔

نمبرشمار

ورثہ کی تفصیل

فیصدی حصہ

1

بیٹا

25

2

بیٹی

12.5

3

بیٹی

12.5

4

بیٹی

12.5

5

بیٹی

12.5

6

بیٹی

12.5

7

بیٹی

12.5

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

     ۷/محرم الحرام ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب