03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مورِث کے انتقال کے بعد وارث فوت ہوجائے
80898میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

عمران اختر کا  اپنی والدہ کے انتقال کےکچھ عرصہ بعد، تقسیمِ میراث سے پہلے انتقال ہوگیا۔ اس کی بیوہ اور ایک بیٹا حیات ہے۔ بھائی بہن بھی زندہ ہیں، جبکہ والد بہت پہلے انتقال کر چکے ہیں۔ عمران کی میراث کی تقسیم کیسے کی جائے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والدہ سے ملنے والا حصہ اور مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں  سونا،  چاندی، نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے  کہ سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا ۔اس کے بعد اگر ان  کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں  نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے 8 حصے کر کےایک حصہ بیوی کو اور باقی 7 حصے بیٹے کو دئے جائیں گے۔

            اولاد  کے ہوتے ہوئے بھائی بہن وارث نہیں ہونگے۔

حوالہ جات

{فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم} [النساء: 12]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (6/ 774):

"العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن)".

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

15/محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب