| 80826 | نماز کا بیان | قراءت کے واجب ہونے اور قراء ت میں غلطی کرنے کا بیان |
سوال
نماز میں پڑھی جانے والی سورتوں میں ترتیب کی رعایت کس حد تک ضروری ہے؟ یعنی اگر پہلی رکعت میں سورۃ العصر پڑھی ہے تو کیا د وسری رکعت میں اس سے پہلےوالی کوئی سورت جیسے سورہ عادیات یا القدر پڑھ سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قرآن مجید میں سورتیں جس ترتیب سے ہیں، فرض نماز میں اسی ترتیب سے پڑھنا ضروری ہے۔ نفل یاسنت نمازمیں سورتوں کی ترتیب الٹ ہوجائےخواہ بھولےسےہویاجان بوجھ کردونوں صورتوں میں مکروہ نہیں،البتہ فرض نمازمیں ایساکرنامکرو ہ ہے،لیکن سجدہ سہوکسی صورت واجب نہیں ہوگا ،نماز ہوجائے گی۔ (تبویب : حوالہ نمبر 80448)
حوالہ جات
رد المحتار(4 / 198)
"ويكره الفصل بسورة قصيرة وأن يقرأ منكوسا إلا إذا ختم فيقرأ من البقرة ۔
وفي القنية قرأ في الأولى الكافرون وفي الثانية - ألم تر - أو - تبت - ثم ذكر يتم وقيل يقطع ويبدأ ، ولا يكره في النفل شيء من ذلك ".
حاشية رد المحتار(1 / 493)
"يجب الترتيب في سور القرآن، فلو قرأ منكوسا أثم لكن لا يلزمه سجود السهو، لان ذلك من واجبات القراءة لا من واجبات الصلاة كما ذكره في البحر في باب السهو".
الفتاوى الهندية (1/ 126)
"إذا قرأ في الركعة الأولى سورة وقرأ في الركعة الثانية سورة قبلها فلا سهو عليه".
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
08/محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


