03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یکے بعد دیگرے انتقال ہو جانے کی صورت میں تقسیمِ میراث
80911میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

عبد الصمد کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، ان کی میراث تقسیم نہیں کی گئی۔ تقسیم سے پہلے عبد الصمد کی ایک بہن "شہناز" ( غیر شادی شدہ) انتقال کر گئی۔ شہناز کے انتقال کے وقت عبد الصمد اور دو بہنیں  حیات تھیں،  کچھ عرصے بعد ایک  اور بہن "قیصر" (غیر شادی شدہ)  کا انتقال ہوگیا۔  ان دونوں کی میراث کی تقسیم کیسے کی جائے گی؟   شہناز اور قیصر زندگی میں اپنا حصہ اپنی بھتیجی کو دینے کا کہتی تھیں۔ والد کی طرف سے میراث میں سے حصہ ملنے سے پہلے ہی دونوں کا انتقال ہو گیا۔ والدہ کا بہت عرصے پہلے انتقال ہوگیا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شہناز مرحومہ کو والد کی طرف سے ملنے والا حصہ اور مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں  سونا، چاندی،نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے  کہ اگر ان  کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ترکہ میں سے سب سے پہلے ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں  نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے 4  حصے کر کے بھائی کو دو حصے اور بہنوں کو ایک ایک حصہ دیا جائے۔

قیصر کی  تقسیم ِمیراث:

            قیصر مرحومہ کو والد کی طرف سے ملنے والا حصہ، شہناز مرحومہ(بہن) سے ملنے والا حصہ اور مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں  سونا، چاندی،نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے  کہ اگر ان  کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ترکہ میں سے سب سے پہلے ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں  نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے 3  حصے کر کے بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ دیا جائے۔

            مرحومہ شہناز اور قیصر  کو والد کی طرف سے ملنے والے حصے پر قبضے سے پہلے ان کا اپنی زندگی میں یہ کہنا کہ وہ اپنا حصہ اپنی بھتیجی کو دینگی،  اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔لہٰذا ان کی میراث ان کے ورثاء کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔

حوالہ جات

۔۔۔

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

17/ محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب