03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سروے اور ریسرچ کے لیے کسی سے رقم لے کر نفع کے ساتھ واپس کرنا
81333خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

ایک بندہ ہے وہ بڑی بڑی کمپنیز کے لئے سروے اور ریسرچ کاکام کرتاہے، ایک کمپنی میں ایک سال یا دو سال کے قریب وقت لگ جاتا ہے۔ اس سروے اور ریسرچ میں اس بندے کو ایڈوانس میں پیمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ پیمنٹ کسی اور بندے سے لے لے اور کام خود کرے تو اس معاملے  کی فقہی تکییف کیا بنے گی ؟ اور پیمنٹ دینے والے کو کس بنیاد پر پروجیکٹ ختم ہو نےکےبعد پرافٹ میں سے نفع دے سکتا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کا اپنی ایڈوانس پیمنٹ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کسی سے رقم لینا شرعی اعتبار سے قرض ہے، اور قرض پر مشروط یا معروف اضافہ لینا دینا جائز نہیں، بلکہ سود میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

حوالہ جات

السنن الكبرى للبيهقي (5/ 573):

 عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا " .

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        28/صفر المظفر/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب