| 81005 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں ایک سکول میں استاذ ہوں پوچھنا یہ ہے کہ استاد اجیر عام ہوتاہے یا اجیر خاص؟ اگر اجیر ِخاص ہوتاہے تو جب ایک استاد کے ایک دن میں صرف تین گھنٹے ( پیریڈ) ہوں تو پھر یہ استادباقی وقت میں کیا کرے گا؟ اسکول میں باقی وقت تو پھر مکمل ضائع ہوجائےگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سرکار کی طرف سے مقررہ پورےوقت میں استادکا اسکول میں حاضررہنا ضروری ہے، اور اس دورانیہ میں صرف اسکول
سے متعلق کام،پڑھائی، مطالعہ، اسباق کی تیاری وغیرہ کرے تاکہ بچوں کےتعلیمی حق صحیح طور پر ادا ہوسکے اور اس میں حق تلفی یا کوتاہی نہ ہو، ،کوئی کام نہ ہوتو بہرحال حاضرضروررہے تاکہ تنخواہ میں حرام عنصرشامل نہ ہو،تاہم اسکول کی ایسی مجاز اتھارٹی جس کو حکومت کی طرف سے اس کی اجازت ہو وہ اگر اجازت دیدے اوراستاذ اپنا مفوض کام میں اس کی وجہ سے کوئی کوتاہی نہ کرے تو پھر یہ جائز ہوگا کہ وہ حسبِ اجازت مقررہ وقت سے پہلے جائے۔
حوالہ جات
وفی حاشية ابن عابدين علی الدر(6 / 70)
(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى.
وفی المجلة (1 / 82)
الأجير الخاص يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشترط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع من العمل وإذا امتنع فلا يستحق الأجرة.
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق- (8 / 33)
الأجير الخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة عمل أو لم يعمل.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
21/01/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


