| 80989 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
گزارش ہے کہ میری شادی 2003میں ہوئی،اس کے چار سال بعدمیرے شوہرنے دوسری عورتوں میں دلچسپی لینا شروع کردی اورپھر ایک عورت سے دوستی کرکے اس سے شادی بھی کرلی اورمجھے اوربچوں کو پریشان کیا جس کی وجہ سے میں اپنے والدین کے گھر آگئی 5سال تک بچوں اورمجھے اس نے خرچہ نہیں دیا، اس کے بعد بڑوں نے صلح کرادی پھر6ماہ تک اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رکھا ،اوراس دوران بھی میرے بچوں اورمیرا کوئی خیال نہیں رکھا، دوسری بیوی کے سامنے ذلیل کرتاتھااور اب تودو سال سے کوئی تعلق نہیں ہے ،نہ خرچہ دیتاہے اورنہ ہی کوئی تعلق رکھتاہے ،لوگوں کو کہتاہے کہ نہ ہی میں طلاق دوں گا اورنہ ہی گھرپراس کو لاؤں گا، الزام تراشی کرکے عورت اوراس کے والدین کو بھی ذلیل کرتاہے اورخلع پر بھی راضی نہیں ہے۔
اب آپ سے پوچھنایہ ہے کہ
اس طرح کے شوہر سے علیحدگی کا شرعی طریقہ کیا ہوسکتاہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اگرمسلمان مردبیک وقت ایک سے زائد بیویوں کے مالی اور جسمانی حقوق ادا کرنے پر قادر ہو اور ان کے درمیان انصاف اور برابری بھی کرسکتاہو تو اسکے لیے شرعاً دوسری شادی کرنا جائز ہے، اوراس کے لیے پہلی بیوی کی اجازت لینا بھی ضروری نہیں،یہ اس کا شرعی حق ہےلہذا پہلے بیوی کا خاوند کی دوسری شادی پر اعتراض کرنا اورروٹ کر میکے جاکر بیٹھ جانا اورصرف اس بناء پرفسخِ نکاح کا مطالبہ کرنا شرعا درست عمل نہیں ہے،اس سے بچنا لازم ہے۔
اسی طرح کسی عورت کےشوہرکا غیر محرم عورتوں سے تعلق رکھنا ،دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کا خیال نہ رکھنا،اس سے تعلق نہ رکھنا ،عدل نہ کرنا ،دوسری بیوی کو پہلی کے سامنے بے عزت کرنا،اس پر اوراس کے والدین پر الزامات لگانا یہ سب غیرشرعی اعمال ہیں اورگناہ کے کام ہیں جس سے توبہ اوراستفار کرنا اورآئندہ کےلیےاجتناب کرنا لازم ہے۔
اس تمہید کے بعد اب آپ کے کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:
خلع/طلاق شریعت کی نظرمیں کوئی اچھی چیز نہیں ہے بلکہ مباح چیزوں میں سےمبغوض ترین چیزہے،علاوہ ازیں آج کل کے معاشرے میں طلاق یافتہ عورت کواچھی نگاہ سےنہیں دیکھاجاتا نیز ایسی عورت کوآگے دوسری شادی کرنےمیں بھی مشکلات کا سامناکرناپڑتاہے اورعزت وآبرو کے حوالے سےبھی اس کومشکلات کا سامنا کرناہوتاہے، لہذا اگرمذکورہ عورت کا کسی طرح اپنے شوہرکے ساتھ گزارہ ہوسکتاہو تو سنجیدہ لوگوں کودرمیان میں ڈالکرمعاملہ کو رفع دفع کیاجائے اورمذکورہ عورت اپنا گھر نہ اجاڑے ورنہ پھر پچتاوہ ہوگا۔تاہم اگر وہ واقعةً وہ مظلوم ہے اورکسی طرح نبھاؤ نہیں ہوسکتااوروہ خلاصی ہی چاہتی ہےتوپھرصورت مسئولہ میں اس کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی مسلمان حاکم کی عدالت میں دعویٰ دائر کرکے یہ ثابت کرے کہ اس کا نکاح فلاں شخص سے ہوا تھا اور یہ کہ وہ اتنے عرصے سےاس کا خیال نہیں رکھ رہاہے،ذلیل کرتاہے اور نفقہ کا انتظام بھی نہیں کرتا ، اس پر عدالت اس کے شوہر کو بلوا کر اسے مجبور کرے گی کہ یا تو وہ نفقہ کا انتظام کرے اور تمام حقوق زوجیت اد اکرے ، یا اس کو طلاق دے،اگر اس کا شوہر دونوں میں سے کوئی بات تسلیم کرے تو ٹھیک ہے ، ورنہ عدالت اس کا نکاح اس شوہرسے خود فسخ کردے گی،اس کے بعد عدت گزار کر وہ عورت آزاد ہے،جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔(ملخص از فتاوی عثمانی وحیلۃ ناجزۃ)
واضح رہے کہ موجودہ زمانے میں عدالتوں سے جاری ہونے والی خلع کی اکثر ڈگریاں غیر شرعی بینادوں پر ہونے کی وجہ سے شرعاً غیر موثر ہوتی ہیں اوران سے نکاح ختم نہیں ہوتا،لہذا جب مذکورہ عورت ضرورت کے وقت عدالت سے خلع لےتو کسی شرعی بنیاد مثلاًنفقہ نہ ملنے کی وجہ سے دعوی دائرکرے اوراپنے اس دعوی کو شرعی گواہوں (دو دیانتدارمرد یا ایک مرد اوردو عورتوں کی گواہی سے ثابت بھی کرے)ورنہ غیر شرعی بنیاداوربغیرشرعی گواہوں کے ایک فریق کے بنان حلفی پر لیاجانے والا عدالتی فیصلہ شرعاًغیرمعتبرہوگا اوراس سے نکاح ختم نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:
"وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا [النساء/3]
سنن أبي داود:
حدَّثنا أبو الوليد الطيالسي، حدَّثنا هَمّام، حدَّثنا قتادةُ، عن النضر ابنِ أنس، عن بَشِير بنِ نَهيك عن أبي
هُريرة، عن النبيَّ - صلَّى الله عليه وسلم - قال: "مَن كانت له امرأتانِ، فمال إلى إحداهما جاء يَومَ القيامَةِ وشِقُّه مَائِلٌ".(باب في القَسم بين النساء، رقم الحدیث:2133، 469/3، ط: دار الرسالۃ العالمیۃ)
معالم السنن:
"قال الشيخ في هذا دلالة على توكيد وجوب القسم بين الضرائر الحرائر وإنما المكروه من الميل هو ميل العشرة الذي يكون معه بخس الحق دون ميل القلوب فإن القلوب لا تملك فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسوي في القسم بين نسائه ويقول اللهم هذا قسمي فيما أملك فلا تواخذني فيما لا أملك، وفي هذا نزل قوله تعالى {ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولوحرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة} [النساء: 129)". (باب الرجل يتزوج امرأة ويشرط لها دارها، 218/3، ط: المطبعۃ العلمیۃ، حلب)
عن عقبة بن عامر، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال :ایاکم والدخول علی النساء“(شعب الايمان ،تحریم الفروج ، جلد 7، صفحہ309 ،مكتبة الرشد ، الرياض )
وفی الھدایة:
و لا یجوز ان ینظر الرجل الی الاجنبیۃالھدایہ ، کتاب الکراھیۃ 4/368 ط دار احياء التراث العربي ، بیروت)
عن ثوبان رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أیما امرأۃ سألت زوجہا طلاقاً في غیر ما بأس فحرام علیہا رائحۃ الجنۃ۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۳۰۳ رقم: ۲۲۲۶، سنن الترمذي رقم: ۱۱۸۷، مسند أحمد ۵؍۲۷۷، مشکاۃ المصابیح ۲۸۳ رقم: ۳۲۷۹، المستدرک للحاکم ۲؍۲۱۸ رقم: ۲۸۰۹، السنن الکبریٰ للبیہقي ۷؍۳۱۶)
سنن الترمذي - (ج 2 / ص 329)
عن ثوبان ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (المختلعات هن المنافقات) هذا حديث غريب من هذا
الوجه وليس إسناده بالقوى . وروى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : (أيما امرأة اختلعت من زوجها من غير بأس ، لم ترح رائحة الجنة) 1199 حدثنا بذلك محمد بن بشار . حدثنا عبد الوهاب الثقفى حدثنا أيوب ،عن أبى قلابة ، عمن حدثه ، عن ثوبان : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : (أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير باس ، فحرام عليها رائحة الجنة) وهذا حديث حسن .
قال اللّٰہ تعالیٰ:
{فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ} (البقرۃ: ۲۲۹)قد صرح في الخانیۃ: بأنہا لو أبرأتہ عمالہا علیہ علی أن یطلقہا، فإن طلقہا جازت البراء ۃ وإلا فلا۔ (شامي ۵؍۱۰۷ زکریا، ۳؍۴۵۴)
وفی الھندیۃ (۴۸۸/۱):
إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.
وفی الشامیۃ (۴۴۱/۳):
قوله ( للشقاق ) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم وفي القهستاني عن شرح الطحاوي السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع اهـ ط وهذا هو الحكم المذكور في الآية وقد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب.
وفی البحرالرائق کتاب الطلاق( ج ۳ ص ۲۵۳)
واما سبعہ فالحاجۃ الی الخلاص عند تبائن الا خلا ق و عروض البغضاء المو جبۃ عدم اقامۃ حدود اﷲ الخ ویکون واجبااذا فات الا مساک بالمعروف .
وفي الہدایۃ:
وإن تشاق الزوجان وخافا أن لا یقیما حدود اللہ، فلا بأس بأن تفتدي نفسہا منہ بمال یخلع بہ۔ لقولہ تعالیٰ: فلا جناح علیہما فیما افتدت بہ، فإذا فعل ذٰلک وقع بالخلع تطلیقۃ بائنۃ ولزمہا المال، …وإن طلقہا علی مال، فقبلت وقع الطلاق ولزمہا المال۔ (ہدایۃ، کتاب الطلاق، باب الخلع، اشرفی دیوبند ۲/۴۰۴)
الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني( ج: ۵ ص: ۲۲۵ )
ومثل المفقود من علم موضعه وشكت زوجته من عدم النفقة يرسل إليه القاضي : وإما أن تحضر أو ترسل النفقة أو تطلقها ، وإلا طلقها الحاكم ، بل لو كان حاضرا وعدمت النفقة قال خليل : ولها الفسخ إن عجز عن نفقة حاضرة لا ماضية ، ثم بعد الطلاق تعتد عدة طلاق بثلاثة أقراء للحرة وقرأين للأمة فيمن تحيض ، وإلا فثلاثة أشهر للحرة والزوجة الأمة لاستوائهما في الأشهر .
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
۲۴/١/۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


