| 81363 | نماز کا بیان | سجدہ سہو کابیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
سجدہ سہوکی تفصیل اوربھولنے کاکیاحکم ہے ؟ برائے کرم بیان فرماکر رہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب نمازکے واجبات میں سے ایک یا کئی واجبات بھول سے چھوٹ جائیں یا کسی واجب کو اس کے متعینہ مقام سے مقدم یا موٴخر کردیاجائےیادو مرتبہ کسی واجب کو ادا کیاجائے یاکسی واجب میں تغیر وتبدل کیاجائے مثلاً جہر کی کی جگہ سر اور سر کی جگہ جہر کیاجائےیا نماز کےفرائض میں سے کسی فرض کو اس کے مقام سے مقدم یا موٴخر کیاجائےیا کسی فرض کو بھول کر مکرر کیاجائے تو ان اسباب سے نماز کے آخرمیں دو سجدے کرنا واجب ہوجاتے ہیں جسے سجد سہوکہتےہیں،جس کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہٴ اخیرہ میں تشہد پڑھ کر سلام پھیر کر دو سجدےسہوکی نیت سے کئے جائیں، پھر تشہد درود شریف دعاء پڑھ کر ختمِ نماز کے لیے سلام پھیرا جائے، عند الحنفیہ یہی طریقہ رائج ہے اور ثابت ہے اگرچہ دوسرے طریقے بھی منقول ہیں۔
اگر نماز میں سجدہ سہو لازم ہوجائے اور نمازی سجدہ کرنا بھول جائے اور سلام پھیر لے تو اگر اس نے سلام کے بعد کسی سے بات نہیں کی اور سینہ قبلہ سے نہیں پھیرا تو یاد آتے ہی دو سجدہ کرے پھر بیٹھ کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے اس طرح اس کی نماز صحیح ہوجائے گی۔ اور اگر اس نے کسی سے بات چیت کرلی یا قبلہ سے سینہ پھیر دیا تو اب یہ نماز نقصان کے ساتھ ادا ہوئی ،لہذا وقت کے اندر اندر اعادہ کرنا اس کا واجب ہے، جبکہ وقت کے بعد سجدہ سہوساقط ہوجاتاہے۔
حوالہ جات
إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَوْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ "جامع الترمذی الصلاۃ باب فی من یشک فی الزیادۃ والنقصان حدیث 398وشرح السنۃ للبغوی 3/282حدیث 755وکنزالعمال :7/ 473۔حدیث 19843واللفظ لہ۔
الفتاوى الهندية (1/ 125:)
"(الباب الثاني عشر في سجود السهو) وهو واجب، كذا في التبيين هو الصحيح، كذا في الهداية والوجوب مقيد بما إذا كان الوقت صالحا حتى إن من عليه السهو في صلاة الصبح إذا لم يسجد حتى طلعت الشمس بعد السلام الأول سقط عنه السجود وكذا إذا سها في قضاء الفائتة فلم يسجد حتى احمرت وكل ما يمنع البناء إذا وجد بعد السلام يسقط السهو، كذا في البحر الرائق.
“اعلم ان الوجوب مقید بما ا ذا کان الوقت صالحا حتی ان من علیہ السہو فی صلاة الصبح اذا لم یسجد حتی طلعت الشمس بعد السلام الاول سقط عنہ السجود”(البحر الرائق,باب سجود السہو:۲ /۱۶۳ ,ردالمحتارباب سجود السہو :۲/ ۷۹ )
ومن علیہ السہو یصلي علی النبي علیہ الصلاۃ والسلام في القعدۃ الأولی في قول أبي حنیفۃ وأبي یوسفؒ وفي قول محمد في القعدۃ الثانیۃ، والأحوط أن یصلي في قعدتین۔ (قاضي خاں علی ھامش الھندیۃ ۱؍۱۲۱)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
30/صفر1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


