03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثت کے متعلق سوالات
81402میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

احمد کا انتقال ہوا، اس کے ورثاء میں ایک بیوہ رابعہ، ایک بیٹی نازنین اور دو بیٹے محسن اور فیصل ہیں۔

اس کے بعد 2007ء میں اس کے چھوٹے بیٹے فیصل کا انتقال ہوا، اس کے ورثاء میں ایک بیوہ مہرین اور ایک بیٹی حمنہ ہے، اس کی بیوہ مہرین نے تین سال بعد دوسری شادی کر لی۔ نیز مرحوم کی والدہ، بہن (نازنين) اور اس  کا بھائی محسن بھی اس وقت حیات تھا۔

پھربیوہ رابعہ کا انتقال 2009ء میں ہوا اور اس کے ورثاء میں ایک بیٹی نازنین اور ایک بیٹا محسن تھے۔

اس کے بعد 2017ء میں اس کے بیٹے محسن کا انتقال ہوا، اس کے ورثاء میں ایک بیٹی آمنہ، ایک بیٹا عبداللہ اور ایک بیوہ شفق ہیں۔مرحوم احمدکے پاس بیس ملین روپےتھے، جو موجودہ گھرانے کے لوگوں میں تقسیم کرنے ہیں، جبکہ ورثاء میں صرف بیٹی نازنین حیات ہے، سوال یہ ہے کہ یہ رقم ان کے درمیان کس طرح تقسیم ہو گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

احمد مرحوم  نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوہ کو دینے کے بعد بقیہ ترکہ کو اس کی اولاد کے درمیان اس طرح تقسیم کر دیا جائے کہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ دیا جائے۔ لہذا پیچھے ذکر کیے گئے حقوق ادا کرنے کے بعد باقی ترکہ کو چالیس (40) حصوں میں برابر تقسيم كر كے مرحوم کی بیوہ کو پانچ (5) ہربیٹے کو چودہ (14) حصے اور بیٹی کو  سات (7)حصے دے دیے جائیں، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوی (رابعہ)

5

12.5%

2

بیٹا (محسن)

14

35%

3

بیٹا (فیصل)

14

35%

4

بیٹی (نازنین)

7

17.5%

 

 

 

 

 

اس کے بعد جب مرحوم کے بیٹے فیصل کا انتقال ہوا تو ان کو اپنے والد کے ترکہ سے ملنے والے حصے سمیت انہوں نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوہ کو، نصف حصہ مرحوم کی بیٹی کو اور بقیہ ترکہ مرحوم کے بھائی کو دے دیا جائے، لہذا پیچھے ذکر کیے گئے تین حقوق ادا کرنے کے بعد باقی ترکہ میں سے مرحوم کی بیوہ کو آٹھواں حصہ (کیونکہ وہ بھی اپنے شوہر کی وارث ہے، دوسری جگہ شادی کرنے سے اس کا حصہ شرعا ختم نہیں ہوگا)، والدہ کو چوتھائی حصہ، بیٹی کو نصف حصہ اوربقیہ  ترکہ مرحوم کے بھائی اور بہن کے درمیان 1/2کی نسبت سے تقسیم کر دیا جائے، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:      

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوی (مہرین)

9

12.5%

2

والدہ (رابعہ)

12

16.666%

3

بیٹی (حمنہ)

36

50%

4

بھائی (محسن)

10

13.888%

5

بہن (نازنين)

5

6.944%

 

 

 

 

 

 

اس کے بعد جب مرحوم کی بیوہ رابعہ کا انتقال ہوا تو ان کو اپنے شوہر اور بیٹے کے ترکہ سے ملنے والے حصے سمیت انہوں نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اورہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کو مرحومہ کے بیٹے اور بیٹی کے درمیان اس طرح تقسیم کر دیا جائے کہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ دیا جائے، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹا (محسن)

2

66.666%

2

بیٹی (نازنین)

1

33.333%

 

 

 

اس کے بعد جب مرحوم کے بیٹے محسن کا انتقال ہوا تو ان کو اپنے والد، والدہ اور بھائی کے ترکہ سے ملنے والے حصے سمیت انہوں نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے آٹھواں حصہ مرحومہ کی بیوہ کو دینے کے بعد بقیہ ترکہ ان کے بیٹے اور بیٹی کے درمیان اس طرح تقسیم کر دیا جائے کہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ دیا جائے،  یعنی کل ترکہ تین حصوں میں تقسیم کر کے دو حصے بیٹے کو اور ایک حصہ بیٹی کو دے دیا جائے، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوی (شفق)

3

12.5%

2

بیٹا  (عبداللہ)

14

58.333%

3

بیٹی (آمنہ)

7

29.166%

 

 

 

 

واضح رہے کہ مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق اس وقت تقسیم درست ہو گی جب تمام ورثاء اپنے تمام مرحومین کا ترکہ گزشتہ تفصیل کے مطابق تقسیم کرنے پر آمادہ ہوں، لیکن اگرتمام ورثاء فی الحال اپنے دیگر مرحومین کا ترکہ تقسیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں یا ان کا ترکہ تقسیم کیا جا چکا ہو اور اب صرف سوال میں ذکر کیے گئے شخص مرحوم احمد کا ہی ترکہ تقسیم کرنا مقصود ہو تواس صورت میں صرف ان کے ترکہ میں موجودہ زندہ ورثاء کا حصہ درج ذیل ہو گا:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹی(نازنین)

1500

26.041%

2

بہو (مہرین)

252

4.375%

3

پوتی (حمنہ)

1008

17.5%

4

بہو (شفق)

375

6.510%

5

پوتا (عبداللہ)

1750

30.381%

6

پوتی (آمنہ)

875

15.190%

 

حوالہ جات

۔۔۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

20/ربیع الاول 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب