03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسٹاک مارکیٹ میں انویسٹمنٹ کرنا
82923خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اسٹاک ایکسچینج کیا ہے اور اس میں پیسہ انویسٹ کرنا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسٹاک مارکیٹ میں شئیرز کا لین دین ہوتا ہے، شئیرز کسی کمپنی میں شرکت کے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کاروبار میں بہت سے مسائل شریعت سے متعلق ہیں،جن کا جاننا بہت ضروری ہے، اسٹاک ایکسچینج میں خریدوفروخت کرنے اور پیسے انویسٹ کرنے کے لیے درج ذیل شرائط کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے:

1۔جس کمپنی کے شئیرز خریدنا چاہتے ہیں اس کا کاروبار حلال ہو، غیر شرعی کاروبار والی کمپنیوں(جیسے کنونشنل بینکوں اور انشورنس کمپنیوں وغیرہ) کے شئیرز خریدنا جائز نہیں ہے۔

2۔کمپنی کا کاروبار شروع ہو چکا اور املاک (عمارتیں، مشینری وغیرہ) وجود میں آ چکی ہوں۔ اگر کاروبار  شروع نہ ہوا ہو اور املاک صرف نقد اثاثوں تک محدود ہوں تو شئیرز کو صرف ان کی  فیس ویلیو (Face value) پر خریدنا اور بیچنا جائز ہے، اس سے کم یا زیادہ میں خریدنا یا بیچنا جائز نہیں ہے۔

3۔ شئیرز خریدنے  میں یہ بھی ضروری  ہے کہ کمپنی  کا اصل کاروبار  حلال ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ضمنی  طور پر بھی  کسی ناجائزکاروبار  میں ملوث نہ ہو اوراگر ہو تو اس ضمنی  کام سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تناسب  اس کی مجموعی  آمدنی  میں معتد بہ مثلا ً  پانچ فیصد   نہ ہو ( جیسا کہ اس کی پابندی  آج کل کے اسلامی  مالیاتی اداروں  میں کروائی جارہی ہے )، نیزاس صورت میں بھی شئیرز خریدنے والا اس ارادے  سے خریدے  کہ وہ کمپنی کو ناجائز اور حرام معاملات  کرنے سے  ہر طرح  منع کرےگا  ، تحریری  طور پر بھی  اور خصوصاً کمپنی کےسالانہ اجلاس میں بھی یہ آواز اٹھائے گا  کہ کمپنی ناجائز اور حرام معاملہ  نہ کرے اور کم از کم  ہمارا سرمایہ   کسی حرام اور ناجائز کاروبار میں نہ لگائے۔

4۔شق نمبر 3 کی صورت میں اگر شئیرز اتنے عرصے تک رکھے کہ کمپنی نے ڈیویڈنڈ تقسیم کر دیا تو شئیرز رکھنے والا

کمپنی کی انکم اسٹیٹمنٹ اور بیلنس شیٹ میں دیکھے کہ کتنا نفع ناجائز کاروبار میں ہوا ہے، اس کے حساب سے اپنے نفع

میں سے اتنے فیصد حصہ صدقہ بلا نیت ثواب صدقہ کر دے۔

5۔شئیرز ہولڈر ا س بات کا  اہتمام  کرے کہ جس کمپنی  کے شئیرز خریدے ا س کے مجموعی  سرمائے کے تناسب میں اس کمپنی  کے سود پرلیے گئے  قرضوں کی مقدار بہت زیادہ ( مثلا 33٪ سے زیادہ) نہ ہو۔

6۔جو شئیر خریدا جا رہا ہو اس کے پیچھے موجود خالص نقد اثاثوں کی مقدار اس کی بازاری قیمت

 (Market Value) سے کم ہو۔

7۔ شئیرز خریدنے کے بعد آگے بیچنے سے پہلے ان پر قبضہ کرنا بھی ضروری ہے، قبضہ کئے بغیر  انہیں  آگے فروخت  کرنا شرعاً درست نہیں،  شئیرز پر قبضہ اس وقت شمار ہوگا جب سی ڈی سی میں وہ فروخت کنندہ سے خریدار کے نام پر منتقل ہو جائیں۔ اس کے لیے عموماً "ٹی پلس ٹو" کو معیار بنایا گیا ہے،یعنی ٹرانزیکشن کے بعد دودن گزرجائیں۔

8۔فارورڈ سیل اور فیوچر سیل کی مروجہ صورتیں ناجائز ہیں، الا یہ کہ کوئی کمپنی مستقبل میں شئیرز دینے کا فقط وعدہ کرے اور حقیقی لین دین اس قت ہو جب شئیرز حوالے کیے جائیں، اس صورت میں اس کمپنی کے شئیرز سی ڈی سی ریکارڈ میں قبضے میں آنے سے قبل آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

9۔کسی کو اس شرط پر شئیر بیچنا کہ فروخت کنندہ اس سے مستقبل میں واپس خریدے گا (جسے بدلہ کہا جاتا ہے) جائز نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص بہت سے شیئرزخرید لیتا ہے، مگر اس کے پاس قیمت کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں ہوتی،  اس لیے وہ شخص یہی شیئرز کسی دوسرے شخص کو اس شرط پر بیچتا ہے کہ وہ ایک وقتِ مقرر پر زیادہ قیمت پر واپس خرید لے گا)  بیع قبل القبض  اوردوسری  شرط فاسد ( یعنی زیادہ قیمت  پر واپس  خریدنے کی شرط  پر بیچنے ) کی بناء پر جائز نہیں،مزیداس طرح کم قیمت پر نقد بیچ کر واپس زائد قیمت پر خریدنا اگر پہلے سے طے ہوتو یہ ربا کا حیلہ ہونے کی وجہ سے بھی ناجائز ہے۔حنابلہ کے ہاں اس کو عکس عینہ کہتے ہیں۔

10۔ اسٹاک ایکسچینج  میں رائج  شئیرز کی بلینک سیل (Blank Sale)  اور  شارٹ سیل

 (Short Sale)  بھی شرعا ممنوع اور ناجائز ہے، ان دونوں میں شیئرز بیچنے والے کی ملکیت میں نہیں ہوتے، جبکہ  شریعت نے غیر مملوک چیز کی خریدوفروخت کو ناجائز قرار دیا ہے۔

11۔ شیئرز کی خریدوفروخت میں اختیارات (Options) کے سودے کرنا بھی جائز نہیں، جس کی صورت

یہ ہوتی ہے کہ متعین قیمت پر ایک متعین وقت کے لیے شیئرز کی خریدوفروخت کا حق حاصل ہوتا ہے اور شیئرز بیچنے والے کے ہی ضمان میں ہوتے ہیں۔

ان شرائط کی رعایت کرتے ہوئے  اگر کوئی شخص اسٹاک میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو یہ جائز ہے۔ چونکہ اسٹاک مارکیٹ کے مسائل سمجھنے اور عمل کرنے میں پیچیدہ ہوتے ہیں اس لیے اسی شخص کو اسٹاک مارکیٹ میں شئیرز کا کاروبار کرنا چاہیے جو ان مسائل کو سمجھتا ہو۔

حوالہ جات

سنن الترمذي (3/ 527) باب ما جاء في كراهية بيع ما ليس عندك:

ذكر عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل [ص:528] سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم يضمن، ولا بيع ما ليس عندك»: وهذا حديث حسن صحيح.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 120)باب الهبه، فصل في شرائط ركن الهبة:

 يجوز بيع المشاع وكذا هبة المشاع فيما لا يقسم وشرطه هو القبض والشيوع لا يمنع القبض لأنه يحصل قابضا للنصف المشاع بتخلية الكل ولهذا جازت هبة المشاع فيما لا يقسم وإن كان القبض فيها شرطا لثبوت الملك كذا هذا.

المعايير الشرعية: (ص545):

العقود الاجلة (Forward) العقود الاجلة البدلين التي تترتب آثارها في تاريخ محدد في المستقبل وتنتهي بالتسليم والتسلم في ذلك الموعد۔=

=المستقبليات في السلع (Futures) العقود الاجلة البدلين التي تترتب آثارها في تاريخ محدد في المستقبل  وتنتهي غالبا إما بالمقاصة بين أطرافها وإما بالتسوية النقدية وإما بعقود مماكسة وهي نادرا ما تنتهي بالتسليم والتسلم الفعلي۔

المعايير الشرعية: (ص546):

الاختيارات: (Options):

عقد يتم بموجبه منح الحق وليس الالتزام لشراء أو بيع شيئ معين (كالأسهم والسلع والعملات والمؤشرات أو الدين) بثمن محدّد ولمدة محددة ولاالتزام فيه إلا على بائع هذا الحق

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

23/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب