| 80918 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
زید نے بکر سے تین کروڑ پندرہ لا کھ روپے میں ایک گھر خریدا،معاہدہ کے وقت مندرجہ ذیل شرائط پر اتفاق کیا گیا:
زید ایک کروڑ روپے ابھی بکر کو ادا کر دے اور گھر کے ایک فلور کا کرایہ زید لینا شروع کردے لیکن اس وقت زیدکے پاس ستر لاکھ روپے تھے جو اس نےبکر کے حوالے کر دیے،بقیہ رقم ایک سال کی مدت میں بکر کو حوالے کردےگا لیکن زید نے اس پر بکر سے مزید کچھ مہلت مانگی اور کہا کہ اگر ایک سال کی زائد وقت مجھے لینا پڑا تو آپ اس کی مہلت دیں گے، جس پر بکر نے رضامندی کا اظہار کیا ،اب تقریباڈیڑھ سال کا وقت گزر چکا ہے اور زید بوجوہ بقیہ رقم ادا نہیں کر سکا تو بکر کی طرف سے بذریعہ ایجنٹ یہ پیغام موصول ہو اکہ اگر زید بقیہ رقم کی ادائیگی نہیں کر سکتا تو اس معاملہ کو کینسل سمجھا جائے۔
لہذا اب میرا سوال یہ ہے کہ :
ا۔ میرے ستر لاکھ کا کیا حکم ہوگا؟
2- ان کے گھر میں ستر لاکھ کی بقدر میں پار ٹنر بن سکتا ہوں؟
3- کیا مجھے کرایہ کی رقم میں سے ستر لاکھ کی بقدر کرایہ مل سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ ایجاب(Offer)ا ور قبول (Acceptance ) ہونے کےبعد خریددوفروخت کا معاملہ مکمل ہوجاتاہے،اگرچہ یہ معاملہ ادھار ہو۔
صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ مکان کی خریداری کامعاملہ مکمل ہوگیا تو مکان فروخت کنندہ کی ملکیت سےنکل کر خریدار کی ملکیت میں آگیا ہےاور مذکورہ مکان کے کرایہ پربھی خریدا ر یعنی زید کا حق ہے،اگرچہ زید کی طرف سے بقیہ رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہو رہی ہے،اب بکر کےلیےجائزنہیں کہ خریدار کی رضامندی کےبغیریہ معاملہ ختم کرکےمکان واپس لے،البتہ اگرفریقین اس خریدوفروخت کےمعاملہ کوباہمی رضامندی سےختم کرناچاہیں تو کرسکتے ہیں،اور اگر خریدار اس پر راضی نہ ہو تو فروخت کنندہ قانونی چارہ جوئی کے ذریعے بھی خریدار کو بقیہ ادائیگی کا پابند بناسکتا ہے۔
حوالہ جات
العناية شرح الہدایۃ ) كتاب البيوع:/6248 دار الفكر بيروت(
(البيع ينعقد بالإيجاب والقبول) الانعقاد هاهنا تعلق كلام أحدالعاقدين بالآخر شرعا على وجہ يظهر أثره في المحل. والإيجاب الإثبات. ويسمى ما تقدم من كلام العاقدين إيجابًا لأنه يثبت للآخر خيار القبول، فإذا قبل يسمى كلامه قبولًا."
بدائع الصنائع(كتاب البيوع، فصل في بيان ما يرفع حكم البيع /5306دار الكتب العلمية )
والكلام في الإقالة في مواضع، في بيان ركن الإقالة...(أما) ركنهافهو الإيجاب من أحد العاقدين والقبول من الآخر، فإذا وجدالإيجاب من أحدها والقبول من الآخر بلفظ يدل عليه فقدالركن، لكن الكلام في صيغة اللفظ الذي ينعقد به الركن فنقول: لاخلاف أنه ينعقد بلفظين يعبر بها عن الماضي بأن يقول أحدها:أقلت ، والآخر : قبلت أو رضيت أو هويت ونحو ذلك"
العنایہ (كتاب البيوع:/6257 دارالفكر لبنان)
وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية ...... ولنا أن في الفسخ إبطال حق الآخر) وهو لا يجوز."
عدنان اختر
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
۱۷؍محرام الحرام ؍۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عدنان اختر بن محمد پرویز اختر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


