03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مکروہ وقت میں عبادت کی نذر ماننا(اگر میرا فلاں کام ہوا تو سورج طلوع ہوتے وقت اتنے نوافل پڑھوں گا)
82900نماز کا بیاننماز کےمفسدات و مکروھات کا بیان

سوال

ایک شخص نے کہا کہ اگر میرا فلاں کام ہوا تو سورج طلوع ہوتے وقت اتنے نوافل پڑھوں گا،پھر اس کو نذر ماننے کے بعد پتہ چلاکہ اس وقت تو نماز پڑھنا مکروہ ہے۔اب اس شخص کا کام ہوگیاہے۔توکیا اس شخص کی نذر منعقد ہوگئی ہے؟اگر منعقد ہوگئی ہے تو وہ اپنی نذر کیسے پوری کرے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں مذکور الفاظ کہنے سے نذر منعقد ہوگئی ہے ۔تاہم کام ہونے کے بعد اس شخص کو چاہیے کہ نوافل ایسے وقت میں پڑھے جو مکروہ نہ ہو۔

حوالہ جات

قال الإمام فخر الدین الزیلعی رحمہ اللہ تعالی: ولو نذر أن يصلي في الوقت المكروه جاز له الأداء فيه.والأفضل أن يصليه في غيره. وكذا لو شرع في الوقت المكروه في الصلاة،ومضى فيها، جاز. والأفضل أن يقطعها، ويؤديها في وقت آخر غير مكروه. (تبیین الحقائق:1/86)

 قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی: ولو نذر أن يصلي في الوقت المكروه ،فأدى فيه،يصح ،ويأثم. ويجب أن يصلي في غيره. (البحر الرائق:2/185)

محمد مفاز

دارالافتاء، جامعۃ الرشید،کراچی

15  رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مفاز بن شیرزادہ خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب