| 81504 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے والد صاحب کا نام عبدالغیورہے جواب ہم سے پردہ فرماگئے ہیں ،والد صاحب کی ملکیت میں ایک کارخانہ ہے اورہم 5بھائی اور5بہنیں ہیں اورکارخانےمیں ہم دوبھائی ملازم تھے، میں اورمدثر،تاہم مدثرجوکہ میرابھائی تھااس کا والد صاحب کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا جس کے بعداس کی زوجہ کا نکاح میرے چھوٹے بھائی مبشرکے ساتھ جب کردیا گیا تو والد صاحب نے بولاتھا کہ مدثرکا حصہ اس کے بچوں کو دیدینا،مالی حالت تنگ ہونے کی بناء پر والد صاحب نے اپنے انتقال سے پانچ ماہ قبل والدہ سے اڑھائی لاکھ قرضہ لیکرمجھے دیااس تاکید کے ساتھ کہ یہ قرضہ ہے اورجلد از اجلد ادا کرنا ،میں نے ان پیسوں سے کاروبارشروع کیا۔
والد صاحب کے انتقال سے پہلے ہم ساتھ کھاتے پیتے تھے مگر والد کے جانے کے بعد ہمارا کھانا پیناالگ ہوگیا البتہ ہم ایک ہی گھر میں رہ رہے ہیں جوکہ میری ذاتی ملکیت ہے ۔
آج میں اورمیرے بچے کارخانہ میں اپنامال خود لاکر تیارکرتے ہیں اورخود اس کو فروخت بھی کرتے ہیں اورمبشربھی کارخانے آنے لگاہے اوراپنا مال خود لاکرخود تیارکرکے خود ہی فروخت کرتاہے، والد کی جگہ سب کو بولابھی ہے کہ جس نے کارخانے آناہے آجائے اوراپنا اپنامال تیارکرے،مشینری وغیرہ سب والدصاحب کی ہے، محنت اپنی کرو۔مؤدبانہ گزارش ہے کہ مجھے یہ بتایاجائے کہ اس کی تقسیم اسلام کی رو سےکیسے کی جائےگی؟
والد صاحب کے انتقال کے وقت کل مال اورقرضے کی تفصیل درج ذیل ہے:
١۔ پلاٹ مالیت تقریباً ایک کروڑ
۲۔مشینری کی قیمت آج کے حساب سے تقریباً 15لاکھ
۳۔قرضہ جو ادا کردیا 7لاکھ پچاس ہزار
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کے بیٹے مدثر کا انتقال جب مرحوم والد عبدالغیور کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا تو وہ عبدالغیورکا وارث نہیں ہوگا، لہذا اس کو والد کی میراث میں حصہ بطورمیراث حصہ نہیں ملےگا،البتہ مرحوم عبدالغیور کا یہ کہناکہ "مدثرکا حصہ اس کے بچوں کو دیدینا"اگراس کا مطلب اپنی موت کے بعداپنے مال میں سے ان کو کچھ دینا مراد ہوتو پھریہ وصیت کے حکم میں ہوگا اورمرحوم عبدالغیور کے ثلت مال کی حد تک اس کی ادائیگی ہوگی،اوریہ دینا بطورمیراث نہیں ہوگاکیونکہ والد کی زندگی میں فوت ہونےکی وجہ سے کہ مدثر والد کے انتقال کے وقت موجود نہ تھا لہذا وہ والد کی میراث کا حقدارنہیں ہے لہذایہ بطوروصیت کے ہوگا۔
مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات (بشرطیکہ کسی نے تبرعاً نہ کیے ہوں)،قرض (اگرباقی ہو) اوروصیت (جوکی ہے)کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد اگرمرحوم کےانتقال کے وقت صرف یہی لوگ ہوں جوسوال میں مذکورہیں توباقی ماندہ کل منقولہ ،غیرمنقولہ ترکہ میں سےمرحوم کی بیوی کو %12.5اورمدثرکے علاوہ ہربیٹے کو%13.461 اورہربیٹی کو6.731 دیئے جائیں۔
حوالہ جات
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه. ( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الفرائض، شرائط الميراث، ج:6، ص:758)
قال اللہ تعالی :
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ.... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن [النساء/11]
وفی البحر الرائق (8/ 567)
والعصبة أربعة أصناف: عصبة بنفسه وهو جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده الأقرب.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
3/4/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


