03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کی چھت پر اسکول کے لئے کمرہ بنانا
81413وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

گاؤں دیور بلو خان کے مرکز خیرآباد میں ایک شخص مسمی شمرگل بمع برادران نے بامر اشد ضرورت برائے تعمیر جنازہ گاہ بمع جامع مسجد کے لئے اراضی وقف کردی تھی،جس کی تعمیر کے لئے اہل محلہ خیرآباد والوں نے علاقہ عمائدین کو بلاکر مدد کی درخواست کی،علاقہ کے عمائدین نے متفقہ فیصلہ کیا کہ گاؤں دپور بلو خان میں موجود ہر ایک گھر مبلغ ہزار ہزار روپے اس کو دے گا اور پورے علاقہ کے جو افراد عرب ممالک میں مزدوری کی خاطر مسافر ہیں وہ فی پاسپورٹ سو ریال اس جامعہ کو دیں گے،اس فیصلہ پر باقاعدہ عمل کیا گیا اور ہزاروں کے حساب سے مرد و خواتین نے اس جامعہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس سال یعنی 2023ء میں مسجدکا لینٹر مکمل ہوگیا۔

اب مسئلہ حل طلب یہ ہے کہ اس جامع مسجد سے شمال کی طرف پرائمری اسکول موجود ہے،اس کی انتظامیہ اس لینٹر کے اوپر اسکول کے لئے کمرہ بنانے کا مطالبہ کررہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ قرآن و سنت اور کتبِ فقہ کی روشنی میں متذکرہ مسجد کے لینٹر پر اسکول کے لئے کمرہ بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اور مسجد کے اس حصے کو اسکول کے لئے دینے کا مجاز کون ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد کی چھت بھی مسجد کے حکم میں ہوتی ہے،اس لئے اسکول انتظامیہ کے مطالبے پر مسجد کی چھت پر اسکول کے لئے کمرہ بنانا جائز نہیں۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (4/ 338):

"ثم إن أبا يوسف يقول يصير وقفا بمجرد القول لأنه بمنزلة الإعتاق عنده، وعليه الفتوى".

"البحر الرائق"(5/ 212):

"فالحاصل أن الترجيح قد اختلف والأخذ بقول أبي يوسف أحوط وأسهل ولذا قال في المحيط: ومشايخنا أخذوا بقول أبي يوسف ترغيبا للناس في الوقف".

"الدر المختار " (4/ 358):

"[فرع] لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية، فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره فيجب هدمه ولو على جدار المسجد، ولا يجوز أخذ الأجرة منه ولا أن يجعل شيئا منه مستغلا ولا سكنى بزازية".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ: (قوله: أما لو تمت المسجدية) أي بالقول على المفتى به أو بالصلاة فيه على قولهما ط وعبارة التتارخانية، وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لا بترك اهـ وبه علم أن قوله في النهر، وأما لو تمت المسجدية، ثم أراد هدم ذلك البناء فإنه لا يمكن من ذلك إلخ فيه نظر؛ لأنه ليس في عبارة التتارخانية ذكر الهدم وإن كان الظاهر أن الحكم كذلك (قوله: فإذا كان هذا في الواقف إلخ) من كلام البحر والإشارة إلى المنع من البناء (قوله: ولو على جدار المسجد) مع أنه لم يأخذ من هواء المسجد شيئا. اهـ. ط ونقل في البحر قبله ولا يوضع الجذع على جدار المسجد وإن كان من أوقافه. اهـ.

قلت: وبه حكم ما يصنعه بعض جيران المسجد من وضع جذوع على جداره فإنه لا يحل ولو دفع الأجرة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

21/ربیع الاول1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب