03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نیوی کا سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر پرانی مسجد کی جگہ سیکیورٹی یونٹ کو دینے کا حکم
83729وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

 پاکستان نیوی کے ایریا میں ایک کچی مسجد "قباء" واقع ہے جو 1947ء میں مہاجرین نے ہجرت کے بعد بنائی تھی، قیامِ پاکستان سے پہلے یہ جگہ (جہاں مسجد واقع ہے) انگریز حکومت کی چھاؤنی تھی، قیامِ پاکستان کے بعد یہ جگہ پاکستان نیوی کی چھاؤنی میں شامل ہوگئی۔ پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل دہشت گردی اور شدت پسندی کا شکار ہے، دہشت گردی کے واقعات پاکستان نیوی کی تنصیبات، افواج اور بحری جہازوں پر بھی ہوچکے ہیں، جن میں پاکستان نیول شپ ذو الفقار، پاکستان نیول شپ مہران اور نیول کوسٹل بس پر حملے سرِ فہرست ہیں۔ ان حالات و واقعات کی بنیاد پر نیول ایریا میں ایک سیکیورٹی یونٹ تشکیل دیا گیا ہے، مذکورہ کچی مسجد اس یونٹ کے ایریا کے اندر واقع ہے، مسجد میں آنے جانے والے لوگوں میں مسافر، قریب کے رہائشی اور اور بازار کے لوگ شامل ہیں۔ سیکیورٹی چیکنگ کو یقینی بنا کر بھی اس بات کا قوی اندیشہ موجود رہتا ہے کہ کوئی بھی شخص سویلین کی آڑ میں اندر آکر دہشت گردانہ کاروائی کرسکتا ہے جو کہ پاکستان نیوی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں سویلینز کو اذنِ عام دینا ممکن نہیں۔ اس یونٹ کا قیام نیوی اور ارد گرد کے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان نیوی میں دینِ اسلام کو مکمل اہمیت اور فوقیت دی جاتی ہے، دینی اہمیت کے پیشِ نظر مساجد اور قرآن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جن میں علماء اور خطبا اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیتے ہیں۔ مذکورہ حالات کی بنیاد پر پاکستان نیوی مسجد کی یہ جگہ اس یونٹ کو دینا چاہتی ہے؛ تاکہ یہاں سیکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔

یہاں کی آبادی کے لیے قریب میں دوسری مساجد بھی موجود ہیں، اس مسجد سے 600 میٹر کے فاصلے پر طوبیٰ مسجد ہے جس میں 3,000 نمازیوں کی گنجائش ہے، دوسری طرف 300 میٹر کے فاصلے پر بازار کے قریب مسجد بیت الفرقان  ہے جس میں 200 سے 300 تک نمازیوں کی گنجائش ہے۔ یہ دونوں مساجد نیوی کی حدود سے باہر ہیں اور سویلینز ان میں آسانی سے آنا جانا کرسکتے ہیں۔

نیوی اپنے ملازمین اور عملہ کے لیے نیوی کی حدود کے اندر نئی مسجدتعمیر کر رہی ہے جو 1,000 نمازیوں کی گنجائش رکھتی ہے اور تکمیل کے قریب ہے، اس نئی مسجد "عثمان" کا افتتاح اگلے دس دنوں میں ہونے والا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان نیوی مسجد "قباء" کے متبادل کے طور پر نیوی کی حدود سے باہر اور بازار کے بالکل قریب زمین دینے یا مسجد بنانے کو بھی تیار ہے جو سویلینز بآسانی استعمال کرسکیں گے اور نیوی کی سیکیورٹی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا، یہ نئی جگہ جو ہم ان کو دینا چاہ رہے ہیں، قباء مسجد سے سو یا ڈیڑھ سو میٹرکے فاصلے پر ہے۔ سو، ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر نئی مسجد تعمیر کرنے کے ساتھ قباء مسجد کو بھی باقی رکھنا ممکن نہیں۔ جو سیکیورٹی یونٹ تشکیل دیا گیا ہے، اس کی بلڈنگ آدھی بن چکی ہے، آگے جہاں مزید بلڈنگ بننی ہے، اس میں یہ مسجدِ قباء آرہی ہے اور اس کے بعد کچھ خالی جگہ ہے، تو مسجدِ قباء اور اس خالی جگہ پر مکمل یونٹ کی بلڈنگ بنانا چاہ رہے ہیں۔ اس نئے سیکیورٹی یونٹ میں چیک پوسٹس، دفاتر، اسلحہ رکھنے کی جگہ، آپریشنل روم جس میں سیکیورٹی کیمروں کے لیے اسکرینز ہوں گی، فوجی جوانوں کے رہنے اور کھانا کھانے کی جگہ سمیت تمام ضروریات کی جگہیں ہوں گی۔ نیوی ایریا کے اندر نئی بننے والی "مسجد عثمان" اس یونٹ سے تقریبا ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر ہے، وہاں رہائش گاہیں ہیں، تقریبا چار سے پانچ ہزار تک لوگ رہتے ہیں۔      

نوٹ: قباء مسجد کے انتظامی امور فی الحال سویلینز خود دیکھ رہے ہیں، مسجد میں 200 سے 250 تک نمازیوں کی گنجائش ہے، مسجد کا رقبہ ساڑھے پانچ ہزار اسکوائر فٹ ہے، گز کے حساب سے چھ سو پچیس مربع گز ہے۔ مسجد میں پانچ وقت کی نماز اور جمعہ ادا کیا جاتا ہے۔  سوال یہ ہے کہ قباء مسجد کی یہ جگہ یونٹ کو دینے اور اس کے متبادل دوسری جگہ مسجد کو دینے کی گنجائش ہے یا نہیں؟  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کوئی جگہ جب ایک دفعہ مسجد بن جائے تو وہ قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے، اس کی مسجدیت کسی صورت میں ختم نہیں ہوتی، سوائے چند مخصوص صورتوں کے جن کی تفصیل فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمائی ہے۔ سوال میں ذکر کردہ صورت ان صورتوں میں داخل نہیں، اس لیے قباء مسجد کو ختم کر کے اس کی جگہ پر سیکیورٹی یونٹ کی بلڈنگ بنانا جائز نہیں، اس کے ارد گرد بلاشبہہ یونٹ کی بلڈنگ بنا دی جائے۔ نیوی کی حدود میں نئی مسجد بننے کی وجہ سے بھی اس پرانی مسجد کو ختم کرنا جائز نہیں، ایک آبادی میں متعدد مساجد ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا مسجدِ قباء کو ہمیشہ کے لیے بطورِ مسجد آباد رکھنا اور اس میں باجماعت نماز کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔ نئے بننے والے سیکیورٹی یونٹ میں رہنے والے لوگوں، دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین اور ڈیوٹی سر انجام دینے والے فوجی جوانوں کے لیے بھی اس مسجد میں جاکر باجماعت نماز ادا کرنا اور عبادت کرنا زیادہ آسان ہوگا۔

جہاں تک باہر سے نمازیوں کا مسجدِ قباء میں آنے جانے کا تعلق ہے تو اگر ان کی آمد و رفت واقعتًا سیکیورٹی مسائل کا سبب بن رہی ہو تو ان کے لیے نیوی کی حدود سے باہر مسجد تعمیر کرا کر دینے اور انہیں اندر آنے سے منع کرنے کی گنجائش ہے۔ اہلِ محلہ کے لیے باہر مسجد کی تعمیر کا معاملہ قباء مسجد کی انتظامیہ اور نیوی کے ذمہ داران باہم افہام و تفہیم سے طے کرسکتے ہیں۔ اس طرح سیکیورٹی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا اور مسجد بھی اپنی جگہ پر برقرار رہے گی۔ 

حوالہ جات

الدر المختار (4/ 388-384):

( و ) جاز ( شرط الاستبدال به أرضا أخرى ) حينئذ ( أو ) شرط ( بيعه ويشتري بثمنه أرضا أخرى إذا شاء، فإذا فعل صارت الثانية كالأولى في شرائطها وإن لم يذكرها ثم لا يستبدلها ) بثالثة؛ لأنه حكم ثبت بالشرط، والشرط وجد في الأولى لا الثانية ( وأما ) الاستبدال ولو للمساكين آل ( بدون الشرط فلا يملكه إلا القاضي ) درر ، وشرط في البحر خروجه على الانتفاع بالكلية وكون البدل عقارا والمستبدل قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل. وفي النهر أن المستبدل قاضي الجنة فالنفس به مطمئنة، فلا يخشى ضياعه، ولو بالدراهم والدنانير، وكذا لو شرط عدمه، وهي إحدى المسائل السبع التي يخالف فيها شرط الواقف كما بسطه في الأشباه،  وزاد ابن المصنف في زواهره ثامنة وهي إذا نص الواقف ورأي الحاكم ضم مشارف جاز كالوصي، وعزاها لأنفع الوسائل، وفيها: لا يجوز استبدال العامر إلا في الأربع.  قلت: لكن في معروضات المفتي أبي السعود أنه في سنة إحدى وخمسين وتسعمائة ورد الأمر الشريف بمنع استبداله وأمر أن يصير بإذن السلطان تبعا لترجيح صدر الشريعة، انتهى، فليحفظ.

رد المحتار (4/ 388-384):

مطلب في استبدال الوقف وشروطه:  قوله ( وجاز شرط الاستبدال به الخ ) اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت، لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار، كذا حرره العلامة قنالي

 زاده في رسالته الموضوعة في الاستبدال وأطنب فيها عليه الاستدلال وهو مأخوذ من الفتح أيضا، كما سنذكره عند قول الشارح لا يجوز استبدال العامر إلا في أربع، ويأتي بقية شروط الجواز.  وأفاد صاحب البحر في رسالته في الاستبدال أن الخلاف في الثالث إنما هو في الأرض إذا ضعفت عن الاستغلال، بخلاف الدار إذا ضعفت بخراب بعضها ولم تذهب أصلا، فإنه لا يجوز حينئذ الاستبدال على كل الأقوال………………. الخ

مطلب: لايستبدل العامر إلا في أربع:  قوله ( إلا في أربع ) الأولى لو شرطه الواقف.  الثانية إذا غصبه غاصب وأجرى عليه الماء حتى صار بحرا فيضمن القيمة ويشتري المتولي بها أرضًا بدلًا. الثالثة أن يجحده الغاصب ولا بينة أي وأراد دفع القيمة فللمتولي أخذها ليشتري بها بدلا. الرابعة أن يرغب إنسان فيه ببدل أكثر غلة وأحسن صقعا فيجوز على قول أبي يوسف وعليه الفتوى كما في فتاوى قارىء الهداية. قال صاحب النهر في كتابه إجابة السائل: قول قارىء الهدایة "والعمل علی قول أبي یوسف" معارض مما قاله صدر الشریعة: نحن لانفتي به وقد شاهدنا في الاستبدال ما لا يعد ويحصى فإن ظلمة القضاة جعلوه حيلة لإبطال أوقاف المسلمين وعلى تقديره فقد قال في الإسعاف المراد بالقاضي هو قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل ا هـ   ولعمري أن هذا أعز من الكبريت الأحمر، وما أراه إلا لفظا يذكر، فالأحرى فيه السد خوفا من مجاوزة الحد، والله سائل كل إنسان ا هـ

قال العلامة البيري بعد نقله: أقول: وفي فتح القدير: والحاصل أن الاستبدال إما عن شرط الاستبدال أو لا عن شرطه، فإن كان لخروج الوقف عن انتفاع الموقوف عليهم فينبغي أن لا يختلف فيه وإن كان لا لذلك بل اتفق أنه أمكن أن يؤخذ بثمنه ما هو خير منه مع كونه منتفعا به فينبغي أن لا يجوز لأن الواجب إبقاء الوقف على ما كان عليه دون زيادة ولأنه لا موجب لتجويزه لأن الموجب في الأول الشرط وفي الثاني الضرورة ولا ضرورة في هذا إذ لا تجب الزيادة بل نبقيه كما كان ا ه، أقول: ما قاله هذا المحق هو الحق الصواب، ا ھ كلام البيري،  وهذا ما حرره العلامة القنالي، كما قدمناه.

المحيط البرهاني (6/ 100):

في «المنتقى»: في مسجد يريد أهل المحلة أن يحولوه إلى موضع آخر، فإن ترك هذا حتى لا يصلى فيه، فللناس أن ينتفعوا به ويجعلون المسجد في غير هذا الموضع بمنزلة الخراب. وتأويل هذا إذا لم يعرف للمسجد بانٍ على ما نبينه إن شاء الله، فأما إذا لم يترك كما وصفت لك، فإنه لا يبيعونه ولا يتخذونه مسكناً. وهذه المسألة على هذا التفصيل إنما تتأتى على قول محمد.

الدر المختار (4/ 358):

( ولو خرب ما حوله واستغنى عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني ) أبدا إلى قيام الساعة، ( وبه یفتی) حاوی القدسی.

رد المحتار (4/ 358):

مطلب فيما لو خرب المسجد أو غيره: قوله (ولو خرب ما حوله) أي ولو مع بقائه عامرا، وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر. قوله (عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا، وهو الفتوى،حاوي القدسي،وأكثر المشايخ عليه،مجتبى،وهو الأوجه، فتح ا هـ بحر  .

البحر الرائق (5/ 271):

ولم يذكر المصنف حكم المسجد بعد خرابه، وقد اختلف فيه الشيخان، فقال محمد: إذا خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر أو لخراب القرية، أو لم يخرب، لكن خربت القرية بنقل أهلها واستغنوا عنه، فإنه يعود إلى ملك الواقف أو ورثته، وقال أبو يوسف: هو مسجد أبدا إلى قيام الساعة لا يعود ميراثا، ولا يجوز نقله ونقل ما له إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا، وهو الفتوى، كذا في الحاوي القدسي. وفي المجتبي: وأكثر المشايخ على قول أبي يوسف. ورجح في فتح القدير قول أبي يوسف بأنه الأوجه.

بحوث في قضایا فقهیة معاصرة (1/337-332):

حکم بیع المساجد: إن المواضع التي یصلي فیها المسلمون في البلاد الغربیة علی قسمین:……..الثاني: ما اتخذوه مسجدا شرعیا وجعلوا أرضه وقفًا کمسجد، فالحکم في مثل ذلك عند جمهور الفقهاء أن هذا المکان یبقی مسجدًا إلی قیام الساعة، ولایجوز بیعه في حال من الأحوال، ولایرجع إلی ملك واقفه أبدًا. وهذا مذهب مالك والشافعي وأبي حنیفة وأبي یوسف رحمهم الله تعالی………….. ویبدو أن المذهب الراجح في هذا مذهب الجمهور، فلاینبغي أن یباع مسجد بعد ما تقرر کونه مسجدا، وإلا لصارت المساجد مثل کنائس النصاری، یبیعونها کلما شاؤوا……. الخ

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

     06/شعبان المعظم/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب