03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حقوق کےحصول کیلئےعورتوں کا ٹرینڈز چلانا،گھروں سے نکل کرتحریک چلانا اورپولیس میں جانا
84050جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

اسلام نے عورتوں کو بہت اونچامقام دیاہے، بلکہ اگریوں کہاجائے کہ زمانہ جاہلیت کے مقابلے میں جو اسلام نے عورت کو مقام دیاہے اسے بیان کرنے کے لیے ہمارے پاس الفاظ نہیں تو کچھ غلط نہ ہوگا،مگر ایسا مقام ملنے کے بعد بھی بہت سی عورتیں ایسی ہیں جو انتہائی درجہ کی ناشکری کرتے ہوئے اپنے مقام کا ناجائز استعمال کرتی ہیں ،ابھی بھی اپنے کم حیثیت کا رونا روتی ہیں اورایسی خواتین کی آڑ میں وہ عورتیں دب کر رہ جاتی ہیں جنہیں ہمارے معاشرے کے کچھ لوگ آج بھی وہ مقام نہیں دے سکتے جو اسلام نےانہیں دیاہے ،ہمارا سوال یہ ہے کہ" کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ" کے تحت اگر ہمیں لگتاہے کہ ہم ان خواتین کےلیے جو آج کی تاریخ میں حقیقت میں مظلوم ہیں کچھ کرسکتی ہیں تو ہمیں خود کو اوراپنے اس خواب کو رائیگانہیں جانے دینا چاہیے ،بارہا ہم اپنے اس خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچاناچاہتی ہیں مگر اس بات پر آکر ساری امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں کہ ہم توخواتین ہیں اورسوائے ہانڈی روٹی کے کچھ نہیں کرسکتی، مگر پھر اسی حدیثِ مبارک کے تحت رہ رہ کرہمیں یہ بات تنگ کرتی ہے کہ ہم کرسکتی ہیں توکیوں نہیں کرتی، آخر ہم سے بھی تو سوال کیاجائے گا،ہمیں ایک بہترین رہنماکی ضرورت ہے اورہمارے خیال کے مطابق یہ آپ سے بہترکوئی نہیں ہوسکتا،ہم جانتی ہیں کہ ہم عورت ہیں پردہ ہم پر فرض  ہے اورباخدا ہم جو کچھ بھی کرنا چاہتی ہیں وہ صرف باپردہ رہ کرہی کرناچاہتی ہیں اوریہ بھی سمجھتی ہیں کہ اگرہمیں گھر سے باہر بھی نکلنا پڑا تو اسلامی ملک کی رہائشی ہونے کی وجہ سے باپردہ ہوکر نکلنے میں ہمیں کوئی دقت نہیں ہوگی، ہم کیا کرسکتی ہیں اورکس طریقے سے کرسکتی ہیں؟  ہماری اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں ۔

١۔ کیاالگ سے کوئی ایساٹرینڈ بناناچاہیے جو صرف خواتین کے شرعی حقوق کےلیے ہو ؟ مگر ایسی صورت میں بہت سے لوگوں کی ضرورت پڑے گی جبکہ ہم اکیلی ہیں، کوئی ہمارا ساتھ دینے کےلیے تیارنہیں ۔

۲۔دوسری صورت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ہمیں پولیس میں شمولیت اختیارکرکے مستقبل قریب میں Ladies  Police Station کی بنیاد رکھنی چاہیے جس میں قانونی طورپر صرف خواتین کے شرعی مسائل کی شنوائی ہو ہمیں لگتاہے کہ اس طرح سے ان خواتین کے منہ بھی بند ہوجائیں گے جو غیر شرعی چیزوں  پراپنا شرعی حق سمجھتی ہیں اگریہی دوسری صورت ہی بہترہو تو اس میں پردہ کی کیاصورت ہوگی ؟ جہاں تک ہم جانتی ہیں تو لڑکیوں کوزیادہ تر ٹریننگ خواتین ہی دیتی ہیں یوں تو شاید پردے کا کوئی مسئلہ نہ ہو، مگرلڑکیوں کی وردی لڑکوں کی طرح انتہائی چست ہوتی ہے، ہاں کچھ لڑکیوں کے لیے قمیص، شلوارکے ساتھ دوپٹے کی سہوت بھی ہوتی ہے ،یہ لباس وردی سے کئی گناہ بہترہوتاہے، اگر اس کے ساتھ فیس ماسک کا اضافہ کردیا جائے توکیا یہ کافی ہوگا؟ہم شرعی پردہ کو اپنی زندگی کا اولین فرض سمجھتی ہیں مگر یہ بھی سمجھتی ہیں کہ پردہ صرف برقع پہننے کا نام نہیں ہے، رب تعالی کی  ذات سے امید ِکامل ہے کہ ہم باہرکسی بھی شخص کےلیے فتنہ کا باعث نہیں بنیں گی ،امید ہے کہ ہم اپنی بات کو واضح الفاظ  میں  بیان  کرچکی ہوں گی ، اس مسئلہ  میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے عورتو ں کو جو حقوق دئیے ہیں کسی مذہب میں اس کی نظیرنہیں ملتی،گویا اسلام نےعورت کو گھر کا ملکہ قراردیاہے اورمختلف روپوں میں مردوں میں سے اس کےلیے خدمت گزارمقررفرمائے ہے،کبھی باپ کی شکل میں، کبھی بھائی کی روپ میں،کبھی خاوند کی شکل  میں اورکبھی بیٹوں اورپوتوں کی صورت میں، اس کے خرچوں کی تمام ترذمہ داریاں مردوں پر ڈال کرکمانےکی مشقتوں سے اس کوبالکل فارغ کیاہے،اس کی قدموں تلے جنت بتایاہے اوراس کی خدمت کو  سعادت ،نیک بختی اورجنت کمانے کا ذریعہ بتایاہے۔

اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کچھ خواتین  ان حقوق  اورمعاشرہ میں ان کے لیے پائے جانےوالے نرم گوشہ کی وجہ سے غلط فائدہ اٹھاتی ہیں اورمردوں کو ان کے ذریعےکبھی بلیک میل کرتی ہیں اورناجائزمطالبات کرتی ہیں جوکہ انتہائی نامناسب عمل ہےاورواجب الترک ہے ،ان کو ہرگزایسا نہیں کرناچاہیے ۔

یہ بات  بھی حقیقت سے خالی نہیں کہ بعض حقوق سے ناواقف لوگ عورتوں  پر ظلم اورزیادتی کرتے ہیں اوران کو ان کے جائزحقوق سےبھی محروم رکھتے ہیں یاان کے حقوق پورے طورپر ادا نہیں کرتے ۔لیکن اس کا حل  ہرگز یہ نہیں ہے کہ خواتین اٹھ کر گھروں سے نکلیں اوراس کے لیے تحریکیں شروع کریں اور ٹرینڈز چلائیں، اس سے کبھی حقوق نہیں ملتےاورنہ کبھی کسی کو ملے ہیں ،فائدہ سے زیادہ اس کا نقصان  ہوتاہے، کیونکہ عورت جب گھرسے نکلتی  ہے تو شیطان اس کی تانک جھانک میں لگ جاتا ہے، عورتوں کو شیطان کی رسی کھاگیاہے جس کے ذریعے وہ مردوں کوشکارکرتاہے ،عورتوں کے نکلنے سے معاشرے میں بگاڑآتاہے ،بے حیائی پھیلتی ہے جس کا کنٹرول پھر مشکل ہوجاتاہے ،مغرب یہی چاہتاہے کہ مسلم عورت گھر سے نکلے تاکہ مسلم معاشرہ میں بگاڑپیداہواوراس کا وہ غلط فائدہ اٹھائے، اسی مقصد کےلیے اہل مغرب عورتوں کی آزادی کے حوالےسے مادر،پدرآزاد تحریکیں چلاتےرہتے  ہیں،ان کامقصد ہرگزعورتوں کو حقوق دلانا نہیں ہوتا، بلکہ معاشرہ میں بے حیائی پھیلانا، مسلم نوجوانوں کو خراب کرنا اوردیگرغلط مقاصدہوتے ہیں ، خودمغرب میں عورت جب گھرسے نکلی ہے تو اس سے بگاڑہی پیدا ہواہے معاشرہ میں بے حیائی آئی ہے،خاندانی نظام تباہ ہواہے،اولاد کی تربیت کا ماحول جاتارہا،  اوراس سےمغربی عورت کو حق بھی نہیں  ملا،اس کو اب باہر بھی کام کرنا پڑتاہے اورگھر میں بھی،اب اہل مغرب  عورتوں کو واپس گھروں میں لانا چاہتےہیں، لیکن بے سود، الغرض عورتوں کےلیے حقوق کے نام پراس طرح کی تحریکیں چلانا،گھروں سے نکلنا،ٹرینڈزچلانایا ان مقاصدکے حصول کے لیے پولیس میں خواتین کا بھرتی ہونا وغیرہ  وغیرہ مناسب اعمال نہیں ہیں، ان کی کبھی بھی خوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی، اس کےبجائے  وہ گھروں کےاندررہ کر گھرکےمردوں سےاس طرح کے مسائل پربات کریں،اس حوالےسےان کوآگاہ کرتی رہیں ،اگروہ مردخود اہلِ علم ہوں تو معاشرہ میں  اپنی اصلاحی جہدوجہد کے ذریعے ان خرابیوں کی اصلاح کی کوشش  کرتے رہیں اورحکومتوں  کواس حوالے سےراست اقدات کی طرف متوجہ کرتے رہیں اوراگرخودوہ مرد اہل علم نہ ہوں  تو وہ اہل علم کو اس طرف متوجہ کرتے رہیں ،بس اسی قدرکاوشوں سے ان شاء اللہ تعالی  عورتوں کی مسئولیت ادا ہوجائے گی،بس وہ اپنے اپنے گھروں کے کام کاج، بچوں کی تربیت پرخصوصی توجہ مرکوزرکھیں،انہی بچوں نے ہی کل بڑے ہوکرمعاشرے میں جاناہے اورمعاشروں کو ٹھیک کرناہے، اگرمعاشرے کی تمام عورتیں اپنےاپنے گھروں میں تربیت کا نظام ٹھیک کرلیں تومعاشرمیں مذکوہ برائی خود بخود ختم ہوجائے گی ،عورتیں توکئی اچھے خاندانوں کی بنیاد رکھ سکتی ہیں،اسی سے عورتوں کی مسئولیت جو" الاکلم راع"  کے ذریعے بیان کی گئی ہے ان شاء اللہ تعالی ادا ہوجائے گی اوران کواس کےلیے  نکلنے کی ضرورت نہیں پڑے گی،جس دین نے "الاکلم راع"جیسی مسئولیت کی ذمہ داری ڈالی  ہے اسی نے عورت کو گھرسے نکلنے سے منع کیاہےاور گھر کے اندرہ کر  کام کاج، اورتربیت وغیرہ کی مسئولیت پورا کرنے کااس کو مکلف بنایاہے ، لہذا کامیابی پورے شریعت کے ماننے میں ہے نہ کہ شرعی نصوص  کواپنے غلط مقاصد کےلیے استعمال کرنے میں ،اللہ تعالی سب کو درست سمجھ عطاء فرمائےاورہرقسم کے فتنوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔آمین۔سوشل میڈیااوردیگرتحریری ذرائع سے بھی اپنی مثبت کوششیں کی جاسکتی ہیں۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی:

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ (الأحزاب: 33)

وفی  أحکام القرآن للفقیہ المفسر العلامۃ محمد شفیع رحمہ اللّٰہ(۳/۳۱۷ – ۳۱۹ ) :

"قال تعالی : {وقرن في بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاهلیة الأولی}  [الأحزاب :۳۳]فدلت الآیة علی أن الأصل في حقهن الحجاب بالبیوت والقرار بها ، ولکن یستثنی منه مواضع الضرورة فیکتفی فیها الحجاب بالبراقع والجلابیب ... فعلم أن حکم الآیة قرارهن في البیوت إلا لمواضع الضرورة الدینیة کالحج والعمرة بالنص ، أو الدنیویة کعیادة قرابتها وزیارتهم أو احتیاج إلی النفقة وأمثالهابالقیاس، نعم! لا تخرج عند الضرورة أیضًا متبرجةّ بزینة تبرج الجاهلیة الأولی، بل في ثیاب بذلة متسترة بالبرقع أو الجلباب ، غیر متعطرة ولامتزاحمة في جموع الرجال؛ فلا یجوز لهن الخروج من بیوتهن إلا عند الضرورة بقدر الضرورة مع اهتمام التستر والاحتجاب کل الاهتمام ۔ وما سوی ذلک فمحظور ممنوع" .

وفی سنن الترمذی(۱/۲۲۱ ):

عن أبي أحوص عن عبد اللّٰه  عن النبي ﷺ قال : ’’المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشیطان‘‘. 

وفی صحيح مسلم (2/ 1021):

إن المرأة تقبل في صورة شيطان، وتدبر في صورة شيطان، فإذا أبصر أحدكم امرأة فليأت أهله، فإن ذلك يرد ما في نفسه.وفیکنز العمال (۱۶/۳۹۱، الفصل الأول في الترهیبات): عن ابن عمر مرفوعاّ: ’’ لیس للنساء نصیب في الخروج إلا مضطرة ‘‘.  

وفی  رد المحتار( 3/ 146 ط : سعید):

وحيث أبحنا لها الخروج فبشرط عدم الزينة في الكل، وتغيير الهيئة إلى ما لا يكون داعية إلى نظر الرجال واستمالتهم. 

وفی الجامع لأحکام القرآن  (11/ 253):

وإنما خصه بذكر الشقاء ولم يقل فتشقيان : يعلمنا أن نفقة الزوجة على الزوج ؛ فمن يومئذٍ جرت نفقة النساء على الأزواج ، فلما كانت نفقة حواء على آدم، كذلك نفقات بناتها على بني آدم بحق الزوجية.

وفی الفتاوى الهندية (1/ 563،562):

وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهنّ في عمل، أو خدمة۔ كذا في الخلاصة ... ونفقة الإناث واجبة مطلقاً على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهنّ مال، كذا في الخلاصة. 

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

1/12/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب