| 83746 | روزے کا بیان | روزے کے مفسدات اور مکروھات کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص ارشدنے ماہِ رمضان میں دانت دردکی وجہ سےنسوار کاغذ میں ڈال کرمنہ میں رکھ دی تھی، اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا روزہ مکروہ ہوا اوربعض کہتے ہیں کہ ٹوٹ گیا،صحیح صورتِ حال کیا ہے؟ واضح فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
روزہ کی حالت میں نسوار منہ میں رکھنے سے چونکہ نسوار کے ذرات لعاب کے ساتھ مل کر پیٹ کے اندر جاتے ہیں،یاکم از کم اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہوجاتاہے،اس لئےعام حالات میں فتوی یہی ہے کہ روزہ کی حالت میں نسوارمنہ میں رکھنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے۔
مسئولہ صورت میں نسوارکاغذکےاندرڈالکر منہ میں رکھنا سخت نامناسب عمل تھا،لیکن مذکورہ صورت میں اگر یقین ہو کہ نسوارکے ذرات حلق میں نہیں گئے یعنی اس دوران اس نے لعاب نہ نگلنے اوربات چیت سے بچنےکا اہتمام کیا ہو اورنسوارنکالنے کے بعداچھی طرح کلی کی ہو تو اس صورت میں اس کا روزہ فاسد نہیں ہوا، البتہ اگران دونوں امور میں سے کسی میں بھی اس نے بے احتیاطی کی ہو تو اس صورت میں اس کا روزہ فاسدہوا اوراس پر صرف ایک دن کی قضاء لازم ہوگی،کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
وفی رد المحتار (2/ 409):
(أو أكل أو شرب غذاء) بكسر الغين وبالذال المعجمتين والمد ما يتغذى به (أو دواء) ما يتداوى به والضابط وصول ما فيه صلاح بدنه لجوفه ومنه ريق حبيبه فيكفر لوجود معنى صلاح البدن فيه دراية وغيره(قوله وما نقله الشرنبلالي) حيث قال في حاشيته: اختلفوا في معنى التغذي قال بعضهم أن يميل الطبع إلى أكله وتنقضي شهوة البطن به وقال بعضهم هو ما يعود نفعه إلى صلاح البدن وفائدته فيما إذا مضغ لقمة ثم أخرجها ثم ابتلعها فعلى الثاني يكفر لا على الأول وبالعكس في الحشيشة؛ لأنه لا نفع فيها للبدن، وربما تنقص عقله ويميل إليها الطبع وتنقضي بها شهوة البطن. اهـ.ملخصا وقال في النهر: إنه يعيد عن التحقيق إذ بتقديره يكون قولهم أو دواء حشوا والذي ذكره المحققون أن معنى الفطر وصول ما فيه صلاح البدن إلى الجوف أعم من كونه غذاء أو دواء يقابل القول الأول هذا هو المناسب في تحقيق محل الخلاف. اهـ.
وفیہ ایضا(2/ 415):
"(إلا إذا مضغ بحيث تلاشت في فمه) إلا أن يجد الطعم في حلقه، كما مر واستحسنه الكمال قائلاً: وهو الأصل في كل قليل مضغه".
وفی الجوھرۃ النیرۃ(ج:1 ص:339):
وَقَوْلُهُ مَا يُتَغَذَّى بِهِ اخْتَلَفُوا فِي مَعْنَى التَّغَذِّي قَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ أَنْ يَمِيلَ الطَّبْعُ إلَى أَكْلِهِ وَتَنْقَضِي بِهِ شَهْوَةُ الْبَطْنِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ مَا يَعُودُ نَفْعُهُ إلَى صَلَاحِ الْبَدَنِ وَفَائِدَتُهُ فِيمَا إذَا مَضَغَ لُقْمَةً ثُمَّ أَخْرَجَهَا ثُمَّ ابْتَلَعَهَا فَعَلَى الْقَوْلِ الثَّانِي تَجِبُ الْكَفَّارَةُ وَعَلَى الْأَوَّلِ لَا تَجِبُ وَعَلَى هَذَا الْوَرَقُ الْحَبَشِيُّ وَالْحَشِيشَةُ وَالْقِطَاطُ إذَا أَكَلَهُ فَعَلَى الْقَوْلِ الثَّانِي لَا تَجِبُ الْكَفَّارَةُ لِأَنَّهُ لَا نَفْعَ فِيهِ لِلْبَدَنِ وَرُبَّمَا يَضُرُّهُ وَيَنْقُصُ عَقْلُهُ وَعَلَى الْقَوْلِ الْأَوَّلِ تَجِبُ لِأَنَّ الطَّبْعَ يَمِيلُ إلَيْهِ وَتَنْقَضِي بِهِ شَهْوَةُ الْبَطْنِ.(الجوہرۃ ، مطلب في مفسدات الصوم، کتاب الصوم، ج:1 ص:339، دارالکتب العلمیة)
في الهندية(1/125):
اذا أكل متعمدا ما یتغذى به او یتداوی به یلزمه الكفارة وهذا اذا كان مما يؤكل للغذاء أو للدواء فاما اذالم يقصد لها فلا كفارة وعليه القضا كذا في خزانة المفتين اھ .
"أو مریض خاف الزیادة لمرضه … بغلبة الظن بأمارة أو تجربة أو بإخبار طبیب حاذق مسلم مستور … وقضوا لزوماً ما قدروا". (شامی 2/422):
وفی الاختیارلتعلیل المختار(ج:1 ص:132):
والاحتیاط فی الصوم الإیجاب لکونہ عبادة ،وفی الکفارات الدرء لأنھامن الحدود.
الدر المختار مع رد المحتار: (416/2، ط: سعید(
"(وکرہ) لہ (ذوق شییٔ و)کذا (مضغہ بلا عذر)… وکرہ (مضغ علک) أبیض ممضوغ ملتئم وإلا فیفطر)
(قولہ وکرہ مضغ علک) نص علیہ مع دخولہ فی قولہ وکرہ ذوق شیٔ ومضغہ بلا عذر لأن العذر فیہ لا یتضح فذکر مطلقا بلا عذر اھتمامارملی… (قولہ أبیض الخ) قیدہ بذالک لأن الأسود وغیر الممضوغ وغیر الملتئم یصل منہ شییٔ إلی الجوف واطلق محمد المسألۃ وحملھا الکمال تبعاً للمتاخرین علی ذالک للقطع بأنہ معلل بعدم الوصول فان کان مما یصل عادۃ حکم بالفساد لأنہ کالمتیقن".
وفی فتاوی دارالعلوم دیوبند علی الشبکة رقم الجواب(60499):
دانت میں درد کی وجہ سے خشک دوارکھنے سے رمضان کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر دوا کا کوئی جز حلق میں چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، اس لیے بغیر سخت مجبوری کے روزہ کی حالت میں خشک دوا بھی نہ رکھی جائے۔
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
2/11/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


