03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترک مکان کی تقسیم کا طریقہ
83752تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک  مکان تین افراد میں مشترک ہے،ایک کا حصہ نصف ہے،دوسرے کا ثلث ہےاورتیسرے کا سدس ہے،ہرایک کو مکان کا کتناحصہ ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ  مکان اگرقابل تقسیم ہو تو اس کو چھ حصوں میں تقسیم کرکے نصف والے کواس میں سے تین،ثلث والے کودو، اورسدس والےکو ایک حصہ دیاجائے گا، اوراگرتمام شرکاچاہیں تو اس کوبیچ کر اسی تناسب سے رقم بھی باہم تقسیم کرسکتے ہیں اس طرح  ہر ایک کو اس کے حصے کے بقدر گھر کا متعین حصہ یا اس کے حصے کے برابر رقم مل جائے گی ۔

اگرمذکورہ مکان قابلِ تقسیم نہ ہو تو اس کو فروخت کرکےاس  کی رقم اسی تناسب سے تقسیم کی جائے اوریہ بھی کرسکتے ہیں کہ کوئی شریک اس مکان کو خرید لے،  دونوں صورتیں ممکن ہیں ، جس صورت میں ورثاء کو ان کے شرعی حصے ادا ہوسکے وہ صورت اختیار کر لی جائے۔

حوالہ جات

وفی تحفة الفقہاء:

"الشركة ‌الأملاك على ضربين أحدهما ما كان بفعلهما مثل أن يشتريا أو يوهب لهما أو يوصى لهما فيقبلاوالآخر بغير فعلهما وهو أن يرثا والحكم في الفصلين واحد وهو أن الملك مشترك بينهما وكل واحد منهما في نصيب شريكه كالأجنبي لا يجوز له التصرف فيه إلا بإذنه ."(‌‌كتاب الشركة، ج:3، ص:5، ط:دار الكتب العلمية)

وفی تبیین الحقائق :

"قال - رحمه الله - (ولا تدخل في القسمة الدراهم إلا برضاهم)؛ لأنه لا شركة فيها ويفوت به التعديل أيضا في القسمة؛ لأن بعضهم يصل إلى عين المال المشترك في الحال، ودراهم الآخر في الذمة فيخشى عليها التوى ولأن الجنسين المشتركين لا ‌يقسم فما ظنك عند عدم الاشتراك."(كتاب القسمة، الإجبار على القسمة، ج:5، ص:271، ط:دار الكتاب الإسلامي)

وفی فتاوی عالمگیریہ :

"وإذا كانت في التركة دار وحانوت و الورثة كلهم كبار وتراضوا على أن يدفعوا الدار والحانوت إلى واحد منهم عن جميع نصيبه من التركة جاز لأن عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - إنما لا يجمع نصيب واحد من الورثة بطريق الجبر من القاضي وأما عند التراضي فذلك جائز."(كتاب القسمة ، الباب الثاني في بيان كيفية القسمة، ج:5، ص:205، ط:دار الفكر)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 4/11/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب