03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میزان اور دیگر بینکوں کے ذریعہ گاڑی لینا
67254سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

جناب عالی!

گزارش ہے کہ میں روزگارکےلیے میزان بینک یا کسی دوسرے اسلامی بینک سے قسطوں پر گاڑی لینا چاہتاہوں،کیا اسلامی بینک سے گاڑی قسطوں پر لینا جائز ہے؟اسلام میں اس کی اجازت ہے؟برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جو بینک  ،اسلامی یا غیر سودی بینکاری کے نام سے  کسی مستند عالم کی نگرانی میں مکمل طور پر تمام  معاملات شریعت کے مطابق کر رہے ہوں جیسے میزان بینک ،بینک اسلامی وغیرہ  اور دیگر بہت سے وہ  بینک جو جزوی طور پر  مستند علماء کی نگرانی میں  غیر سودی بینکاری کررہے ہیں ، ان کے ساتھ معاملا ت کیے جاسکتے ہیں ،لہذا ان سے  گاڑی لینا بھی  جائز ہوگا ، جب تک یہ بینک  مستند علماء کی نگرانی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے طے کردہ غیر سودی بینکاری کے معیارات کے مطابق کام کرتے رہیں اس وقت تک ان سے معاملات کرنا جائز ہے

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

09/صفر1441ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب