| 82099 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
تین بھائیوں کی مشترکہ اراضی کو ایک بھائی کے بیٹے حاجی احمد نے فروخت کردیا،جبکہ ابھی اس زمین کی تقسیم بھی نہیں ہوئی تھی اور بھائیوں نے اپنے حصوں کی حد بندی بھی نہیں کی تھی،کیا ایسی مشترکہ زمین کو دیگر شرکاء کے علم میں لائے بغیر فروخت کرنا جائز ہے؟
کیا شرعا ایسی بیع منعقد ہوجاتی ہے؟عقد کے حوالے سے معلوم ہونے کے بعد کوئی شریک اس پر راضی نہیں ہے،اگر یہ بیع منعقد نہیں تو کس وجہ سے،وجہ بھی بیان فرمائیں۔
تنقیح: واضح رہے کہ ان تینوں بھائیوں کا انتقال ہوچکا ہے،اب یہ زمین ان کے ورثا کی مشترکہ ملکیت میں تھی،جن میں سے ایک وارث حاجی احمد نے دیگر ورثا کے علم میں لائے بغیر پوری زمین فروخت کردی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر فروخت کرنے والے بھائی کے بیٹے کو اس زمین میں اپنا حصہ مشاعا(ثلٕث،ربع وغیرہ) معلوم تھا تو پھرمذکورہ صورت میں یہ بیع صرف فروخت کرنے والے وارث کے حصے میں منعقد ہوئی ہے،جبکہ دیگرورثاکے حصوں سے متعلق بیع ان کی اجازت پر موقوف ہے،اگر وہ اجازت دیں گے تو یہ بیع نافذ ہوجائے گی اور وصول ہونے والی قیمت میں سے اپنے حصوں کے بقدر رقم انہیں ملے گی اور اگر اجازت نہیں دیں گے تو بیع کالعدم ہوجائے گی،کیونکہ اس بھائی کو اپنے دیگر بھائیوں کے حصے میں ان کی اجازت کے بغیر تصرف کا حق حاصل نہیں ہے۔
اور اگر فروخت کرنے والے بھائی کو اس زمین میں اپنے مشاعا حصے کا بھی علم نہیں تھا تو پھر مبیع کی جہالت کی وجہ سے اس کے حصے میں بھی بیع فاسد ہے۔
حوالہ جات
"الهداية في شرح بداية المبتدي" (3/ 5):
قال: "الشركة ضربان: شركة أملاك، وشركة عقود. فشركة الأملاك: العين يرثها رجلان أو يشتريانها فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي".
"الدر المختار " (5/ 113):
"(وحكمه) أي بيع الفضولي لو له مجيز حال وقوعه كما مر (قبول الإجازة) من المالك (إذا كان البائع والمشتري والمبيع قائما) بأن لا يتغير المبيع بحيث يعد شيئا آخر؛ لأن إجازته كالبيع حكما (وكذا) يشترط قيام (الثمن) أيضا (لو) كان عرضا (معينا) لأنه مبيع من وجه فيكون ملكا للفضولي،وعليه مثل المبيع لو مثليا وإلا فقيمته، وغير العرض ملك للمجيز أمانة في يد الفضولي ملتقى ".
"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام "(1/ 86):
"لما كانت حاصلات الملك والأموال المشتركة بمقتضى المادة (1071) تقسم بين الشركاء كل بقدر حصته فلو حصل شرط بين الشركاء بأن يأخذ أحد الشركاء حصة في الحاصلات زيادة عن حصته في الملك والأموال فالشرط غير صحيح".
"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام" (3/ 174):
"وإذا باع ثلاثتهم أي صاحبا الدار وصاحب الطريق بالاتفاق الدار المذكورة مع الطريق فإذا كانت رقبة الطريق مشتركة بينهم أي ملكا لثلاثتهم فيقسم ثمن الطريق بين ثلاثتهم فإذا كانت حصتهم معلومة كأن تكون الطريق موروثة فتقسم حسب حصصهم، وإذا كانت غير معلومة فتقسم على عدد الورثة".
"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام" (1/ 188):
"بيع حصة شائعة معلومة كالثلث والنصف والعشر من عقار مملوك قبل الإفراز صحيح.
مثال ذلك: إذا باع إنسان من آخر حصته في الدار الفلانية فإذا كان الآخر عالما بمقدار حصته في تلك الدار فالبيع صحيح إن كان البائع أيضا عالما بمقدار حصته أو مصدقا للمشتري فيما بينه من مقدار حصته، أما إذا كان المشتري لا يعرف الحصة فالبيع غير صحيح سواء أكان البائع يعرف تلك الحصة أم لا يعرفها (الهندية)".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
26/جمادی الاولی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


