03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یکطرفہ عدالتی خلع کا حکم
82079نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اپنے بچے کی خاطر میرا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،کیا عدالتی خلع میری اجازت اور دستخط کے بغیر واقع ہوجائے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خلع کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے،شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا یکطرفہ فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا اور بیوی بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں رہتی ہے،جبکہ شوہر کی رضامندی کے بغیر فسخِ نکاح کا اختیار جج کو صرف درج ذیل صورتوں میں حاصل ہوتا ہے:

1. شوہر نامرد ہو۔

2. متعنت ہو یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہواور نہ طلاق دیتا ہو۔

3. مفقود یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو۔

4. غائب غیر مفقود ہو یعنی پتہ معلوم ہو،لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہو۔

5. ایسا پاگل ہویا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں ناقابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

ان کے علاوہ محض عورت کی ناپسندیدگی کی بناء پر جج کو فسخِ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہوتا،نیزفسخ نکاح کی ان وجوہات میں سے ہر ایک وجہ کی الگ الگ تفصیلی شرائط ہیں، نکاح فسخ کرتے وقت ان کی رعایت رکھنا لازم ہے،اگر ان میں سے کسی شرط کی رعایت نہ رکھی جائے تو فسخ نکاح کا فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا۔(فقہی مقالات:2/ 192)

لہذا اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی ہے اور شوہر ضابطے اور دستور کے مطابق بیوی کے تمام حقوق کی رعایت رکھ کر اسےساتھ رکھنے پر آمادہ ہے تو ایسی صورت میں عدالت کی جانب سے جاری کی گئی خلع کی ڈگری شرعا معتبر نہیں ہوگی،بلکہ اس اقدام پر بیوی گناہ گار بھی ہوگی،کیونکہ احادیث مبارکہ میں بلاضرورت اس  طرح طلاق کے مطالبے پرسخت وعیدیں آئی ہیں،چنانچہ ایسی عورتوں کو منافق قرار دیا گیا ہے اور ایک روایت میں آتا ہے کہ جس عورت نے بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق مانگی اس پرجنت کی خوشبو بھی حرام ہوگی۔

حوالہ جات

"المبسوط للسرخسي" (6/ 173):

"والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد".

"سنن الترمذي " (3/ 485):

 "عن ثوبان، أن رسول ﷲ صلى ﷲ عليه وسلم قال: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير بأس فحرام عليها رائحة الجنة»: «هذا حديث حسن»".

"سنن الترمذي " (3/ 484):

 "عن ثوبان، عن النبي صلى ﷲ عليه وسلم قال: «المختلعات هن المنافقات»".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2136)

(عن ثوبان قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أيما امرأة سألت زوجها طلاقا) : وفي رواية الطلاق أي لها أو لغيرها (في غير ما بأس) : وفي رواية من بأس أي لغير شدة تلجئها إلى سؤال المفارقة، وما زائدة للتأكيد (فحرام عليها رائحة الجنة) : أي: ممنوع عنها، وذلك على نهج الوعيد والمبالغة في التهديد، أو وقوع ذلك متعلق بوقت دون وقت أي لا تجد رائحة الجنة أول ما وجدها المحسنون، أو لا تجد أصلا، وهنا من المبالغة في التهديد، ونظير ذلك كثير قاله القاضي، ولا بدع أنها تحرم لذة الرائحة ولو دخلت الجنة. (رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي) : وكذا ابن حبان والحاكم.

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

22/جمادی الاولی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب