| 84095 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
فاطمہ نامی خاتون کا انتقال ہوا، انتقال کے وقت اس کے ورثا میں صرف ایک بہن زینب اور دو بھتیجے زید اور حامد حیات تھے۔ اب زینب کا بھی انتقال ہوگیا ہے۔ زینب کے ورثا میں چار طرح کے افراد ہیں: کچھ کہہ رہے ہیں کہ اہم اپنا حصہ لیں گے۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنا حصہ نہیں لیں گے، ہمیں نہیں چاہیے۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ ہم زینب کے اپنے مال میں سے حصہ لیں گے، لیکن فاطمہ کی طرف سے اس کو جو حصہ ملا ہے، اس میں حصہ نہیں لیں گے۔ جبکہ کچھ اس تیسری صورت کے الٹ بات کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے درمیان تقسیم کیسے ہوگی اور جو پورا یا بعض حصہ نہیں لینا چاہ رہے ہیں، ان کے ان حصوں کا کیا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زینب کے جو ورثا اپنے مکمل یا کچھ حصے وصول نہیں کرنا چاہتے تو صرف انکار سے ان کے حصے ختم نہیں ہوں گے۔ ان کو چاہیے کہ زینب کے پورے ترکہ میں اپنا اپنا حصہ وصول کرلیں، پھر اگر کوئی اپنا حصہ کسی دوسرے وارث کو دینا چاہتا ہے یا صدقہ کرنا چاہتا ہے تو خود کرے۔ لیکن اگر وہ اپنا حصہ وصول ہی نہیں کرتے اور کسی دوسرے کو اپنا حصہ لینے کا کہتے ہیں یا صدقہ کرنے کا وکیل بناتے ہیں تو یہ بھی درست ہے، لیکن صرف کہنے یا وکیل بنانے سے ان کے حصے ختم نہیں ہوں گے، بلکہ جب عملاً متعلقہ افراد ان کے حصے وصول کریں گے یا صدقہ کریں گے، اس وقت ان کی ملکیت ختم ہوجائے گی۔
حوالہ جات
الأشباه والنظائر (ص: 350):
لو قال الوارث : تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك، و الحق يبطل به، حتى لو أن أحدًا من الغانمين قال قبل القسمة : تركت حقي بطل حقه، و كذا لو قال المرتهن : تركت حقي في حبس الرهن بطل ، كذا في جامع الفصولين و فصول العمادي.
حاشية ابن عابدين (5/ 632)
قولهم الإبراء عن الأعيان باطل معناه أنها لا تكون ملكًا له بالإبراء.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
03/ذو الحجۃ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


