03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تعلیم کو رکاوٹ بنا کرنکاح میں تاخیر کا حکم
84023نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

جیسا کہ آپ سب کے علم میں ہے نکاح آسان تحریک کا بانی ہونے کے ناطے مجھ سے دنیا بھر سے لوگ رابطہ کرتے رہتے ہیں،رشتے کے سلسلے میں لڑکیوں کے گھر والے، لڑکوں کے گھر والے، خود لڑکے اور اب تو باقاعدہ لڑکیاں بھی خود اپنے نکاح کے لیے بلاجھجھک رابطہ کرتی ہیں، لڑکیوں کا خود سے رابطہ کرنا بے حیائی کے سبب نہیں ہوتا، بلکہ وہ گناہوں سے بچنے کے لیے اللہ کے بعد مجھے ذریعہ سمجھ کر مجھ سے رابطہ کرتی ہیں، ایسے ہی ایک ہاسٹل میں رہنے والی لڑکی نے مجھ سے رابطہ کیا، اس نے مجھ سے چند سوالات کیے اور درخواست کی کہ میں اس کا مدلل جواب مفتیان کرام سے لے کر انہیں دوں۔ مختصراً وہ سوالات درج ذیل ہیں:

1۔ کیا والدین کا تعلیم کو رکاوٹ بنا کر اولاد کے نکاح میں تاخیر کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح انسان کا ایک بشری اورفطری تقاضا ہے، جس میں انسان کی فطری خواہش کی تکمیل کے ساتھ ساتھ بہت سے اچھے مقاصد بھی پائے جاتے ہیں، اسی لیے اس کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت قرار دیا اور نکاح کے مقاصد کی اصل تکمیل جوانی میں ہی ہوتی ہے، اس لیے بغیر کسی شرعی وجہ کے نکاح کے مسنون عمل میں تاخیر کرنا خلافِ شریعت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر باقاعدہ تنبیہ فرمائی ہے کہ جب عورت کو اس کے جوڑ کا رشتہ مل جائے تو پھر اس کے نکاح میں تاخیر نہ کی جائے۔

لہذا والدین کا دنیوی تعلیم کو بہانہ بنا کر نکاح میں تاخیر کرنا ہرگز جائز نہیں، کیونکہ آج کل اچھی دنیوی تعلیم کے حصول کے لیےتقریباًپچیس سال کی عمرہوجاتی ہے، جبکہ ہمارے معاشرے میں عام طور پر بچیاں بارہ،تیرہ سال کی عمر میں بالغ ہو جاتی ہیں ، پھر آج کے دور میں انٹرنیٹ کی خرافات اور فحاشی عریانی کی وجہ سے معاشرہ بے راہ روی  کا شکار ہو چکا ہے اور عصری تعلیمی اداروں کامخلوط ماحول انتہائی خراب ہو چکا ہے، ایسی صورتِ حال میں پیسہ کمانے کی غرض سے دنیوی تعلیم کو بہانہ بنا کر جوان بچی کونکاح کے مسنون اور مبارک عمل سے دور رکھناکسی طرح بھی درست نہیں۔ البتہ نکاح کرنے کے بعد پردے اور دیگر شرعی احکام کی پاسداری کرتے ہوئے دنیوی تعلیم کو جاری رکھنے میں مضائقہ نہیں۔

حوالہ جات

سنن الترمذی  ( أبواب الصلاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل، 1 / 213،ط: دار الغرب الإسلامي – بيروت:

حدثنا ‌قتيبة ، قال: حدثنا ‌عبد الله بن وهب ، عن ‌سعيد بن عبد الله الجهني ، عن ‌محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب ، عن ‌أبيه ، عن ‌علي بن أبي طالب أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: «يا علي،» ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفؤا".

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

یکم ذوالحجہ 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب