03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کی گفٹ ڈیڈ بنا کر تولیت منتقل کرنا
84114وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

میرے بھائی (مولانا امین اللہ اشرف) نے ایک مکان خرید کر مدرسے کے لیے وقف کیا، اس مکان کے ساتھ ایک مسجد(پلاٹ نمبر 7.8.19.20) تھی، مسجد اس شخص (واقف) نے گفٹ ڈیڈ بنا کر بغیر کسی عوض کے میرے بھائی کی تولیت میں دیدی، دستاویز کی نقل منسلک ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ واقف کا اس طرح مسجد کی گفٹ ڈیڈ بنا کر تولیت منتقل کرنا شرعاً کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

    مسجد کسی کو ہبہ کرنا درست نہیں، البتہ تولیت منتقل کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا مسجد کی تولیت منتقل کرنے کے لیے گفٹ ڈیڈ بنانا اور لکھنا کہ میں یہ مسجد فلاں کو ہدیۃً دے رہا ہوں، درست نہیں،  اس مقصد کے لیے ایسی دستاویز بنانی چاہیے جس میں ہدیہ کا کوئی ذکر نہ ہو، صرف تولیت دینے کی بات ہو۔

صورتِ مسئولہ میں گفٹ ڈیڈ کے ذریعے آپ اس مسجد کےمالک تو نہیں بنے، لیکن اس کے متولی بن گئے ہیں، کیونکہ واقف نے دستاویز میں مسجد ہدیہ کرنے کے الفاظ کے بعد لکھا ہے:

" آج سے مسمی محمد امین الله اشرف ولد محمد عثمان، بالا مسجد/ مدرسہ جس کا اب نام جامع مسجد حسن و مدرسہ دار العلوم عثمان غنی (ہوگا) کے معلم منتظم اور خطیب ہوں گے اور مسجد/ مدرسہ میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ آج سے میرا بالا مسجد/ مدرسہ سے بحیثیتِ خطیب / منتظم / معلم کوئی تعلق نہ ہوگا۔"

اور یہ الفاظ تولیت منتقل کرنے کے لیے کافی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ اس دستاویز میں مسجد ہدیہ کرنے کی جو بات لکھی ہوئی ہے، وہ شرعا غیر معتبر ہے، لیکن تولیت منتقل کرنے کی بات معتبر ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار (4/ 425):

( أراد المتولي إقامة غيره مقامه في حياته ) وصحته ( إن كان التفويض له ) بالشرط ( عاما صح ) ولا يملك عزله إلا إذا كان الواقف جعل له التفويض والعزل ( وإلا ) فإن فوض في صحته ( لا ) يصح وإن في مرض موته صح وينبغي أن يكون له العزل والتفويض إلى غيره كالإيصاء، أشباه.

حاشية ابن عابدين (4/ 425):

مطلب للناظر أن يوكل غيره:  قوله ( أراد المتولي إقامة غيره مقامه ) أي بطريق الاستقلال، أما بطريق التوكيل فلا يتقيد بمرض الموت. وفي الفتح: للناظر أن يوكل من يقوم بما كان إليه من أمر الوقف ويجعل له من جعله شيئا وله أن يعزله ويستبدل به أو لا يستبدل، ولو جن انعزل وكيله ويرجع إلى القاضي في النصب ا هـ  وشمل كلام المصنف المتولي من جهة القاضي أو الواقف، كما في أنفع الوسائل عن التتمة، وقال: وهو أعم من قوله في القنية "للمتولي أن يفوض فيما فوض إليه إن عمم القاضي التفويض إليه وإلا فلا" ا هـ ،  فإن ظاهره أن هذا الحكم

في المتولي من جهة القاضي فقط.

قوله (وصحته) عطف تفسير أراد به بيان أن المراد بالحياة ما قابل المرض وهو الصحة لا ما  يشملهما فافهم. قوله ( إن كان التفويض له بالشرط عاما صح ) لم يظهر لي معنى قوله بالشرط، ولعل المراد به اشتراط الواقف أو القاضي ذلك له وقت النصب، ومعنى العموم کما في أنفع الوسائل أنه ولاه وأقامه مقام نفسه وجعل له أن يسنده ويوصي به إلى من شاء ففي هذه الصورة يجوز التفويض منه في حال الحياة وفي حالة المرض المتصل بالموت ا ه.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        24 /ذو الحجۃ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب