| 74857 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میں نے اپنی بیوی انعم کو آج سے تین مہینے پہلے لڑائی میں طلاق دی، اُس نے طلاق مانگی اور میں نے ایک مرتبہ طلاق دے دی، یعنی یوں کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی ہے۔ پھر اب سے 13 دن پہلے دوبارہ لڑائی ہوئی اور میں نے اس کی ماں سے کہا کہ اس کو یہاں سے لے جاؤ، میں اِس کو دے چکا ہوں۔ میرا مطلب یہ تھا کہ پہلے جو ایک طلاق دی تھی، اُس کی اطلاع دوں۔ نئی طلاق مراد نہیں تھی۔ واضح رہے کہ پہلی طلاق کے بعد ہم نے رجوع کرلیا تھا۔ اب کیا حکم ہے؟ کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شوہر کے یہ الفاظ کہ "میں اِس کو دے چکا ہوں" سے اس کی مراد چونکہ پچھلی طلاق کی خبر دینا تھا، اس لیے اس جملے سے مزید طلاق واقع نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
فی الدر المختار مع رد المحتار: 3/296
(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال).
طارق مسعود
دارالإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
۶، جمادی الاولی، 1443
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | طارق مسعود | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


