| 84835 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میری 2 بیویاں ہیں، پہلی بیوی سے نکاح کئے ہوئے تقریباً 8 سال ہو گئے اور دوسری بیوی سے نکاح فروری 2024 میں ہوا ۔اب مسئلہ یہ ہے کہ دوسری بیوی کہتی ہے کہ آپ پہلی بیوی کو طلاق دیں ،جس کی وجہ سے وہ کبھی اپنا ہاتھ کاٹ لیتی تھی تو کبھی اپنا سر شیشے میں مار کر اپنے آپ کو زخمی کر دیتی تھی ۔ جس سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنا ذہنی توازن کھو چکی ہے۔تو میں نے اس کو تسلی دینے کیلئے کہا کہ میں تمہارے پاس آجاتا ہوں، میں پہلی بیوی سے بات کرتا ہوں۔ اور اس کو بہلا پھسلا کہ ماں کے گھر چھوڑ آیا۔پھر اسی دوسری بیوی کو ڈرانے کیلئے (تاکہ دوبارہ یہ اس طرح کی حرکتیں نہ کرے) میں نے طلاق کے پیپرز بنوا نےکیلئے ایک وکیل کو کہا، لیکن میرا طلاق دینے کا ہرگز ارادہ نہیں تھا۔ تو اس نے کہا کہ آپ پیپرز بنوا لو اور اس پر دستخط کر لو۔لیکن جب آپ پیپرز دینے جاؤ تو گواہوں کے سامنے آپ کو منہ سے طلاق دینی پڑے گی اور اس کی ایک ویڈیو بھی بنوا لینا جو عدالت میں بطور ثبوت پیش ہوگی ۔تو یہ بات پہلی بیوی کو معلوم ہو گئی کہ دوسری بیوی کو طلاق دینے کیلئے پیپرز بنوانے کا کہا ہوا ہے۔ تو پہلی بیوی نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ ہاں بس ڈرانے کیلئے بنوا رہا ہوں۔ تو پہلی بیوی کہنے لگی کہ آپ اس کو طلاق دے دو ،نہیں تو مجھے طلاق دے دو میں بچوں کو لے کر چلی جاتی ہوں ۔اب اس کو سمجھانے کی کوشش کی تو یہ کہتی ہے کہ پیپرز بنوا کر اس پر دستخط کرو اور اس کو طلاق دو ۔
تو میں نے وکیل سے بات کی تو وہ پیپر لے آیا۔تو پہلی بیوی کے فورس کرنے پر میں نے پیپرز پر دستخط کر دئیے لیکن طلاق کا ارادہ ہرگز نہیں تھا۔پھر اس کے بعد میں دوسری بیوی کو منانے کیلئے ان کی ماں کے گھر گیا تو ان کے گھر والوں نے مجھ پر الزام لگائے تو میں نے ان کو کہا کہ جو الزام آپ لگا رہے ہیں وہ بالکل غلط ہیں، میں حلفا کہہ سکتا ہوں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی الزام غلط ہے ، اس کے بعد میں نے طلاق پیپرز اوریجنل کی بجائے فوٹوکاپی ان کو دی تو دوسری بیوی نے کہا کہ نہیں میں آپ کے ساتھ رہنے کیلئے تیار ہوں اب آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گی تو پھر صلح ہوگی۔
جب واپس آیا تو پہلے بیوی کے پوچھنے پر بتایا کہ صلح ہوگئی تو اس کے بعد وہی وکیل جن سے پیپرز بنوائے تھے،میرے پاس آئے (دراصل اس وکیل کی بیوی اور میری پہلی بیوی دوست تھے) تو وہ وکیل مجھے کہنے لگے کہ آپ نے اوریجنل پیپرز کیوں نہیں دیئے اور ویڈیو ریکارڈ کروائی؟ تو میں نے کہا کہ بھائی مجھے طلاق نہیں دینی تھی اس لئے فوٹوکاپی دی اور صلح ہوگئی تو ویڈیو کیوں بنواتا؟ تو اس نے کہا کہ آپ نے دستخط تو کر دیئے ہیں طلاق تو ہو گئی۔ تو میں کہا کہ مجھے تو نہیں معلوم تھا، کیونکہ آپ نے کہا تھا کہ منہ سے طلاق دینی پڑے گی۔ اس لئے میں آپ کے پاس آیا ہوں کہ مجھے اس مسئلہ کے بارے میں آگاہ کیجئے کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں ہوئی۔
نوٹ: میرا دوسری بیوی کو طلاق دینے اور چھوڑنے کا ہرگز ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی دوسری بیوی کا ارادہ ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اگرچہ اکراہ کی حالت میں لکھ کر دی جانے والی طلاق کے عدمِ وقوع کا حکم لگایا ہے، لیکن سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال اکراہ اور زبردستی کی نہیں ہے، کیونکہ احکام میں اکراہ کی وہ حالت معتبر ہے جس میں آدمی کو مارنے یا قید کی دھمکی دی جائے یا کم از کم اس فعل کے ارتکاب کی صورت میں آدمی کو شدید غم لاحق ہو، جیسےکسی باعزت شخص کو لوگوں کے سامنے گالم گلوچ کے ذریعہ ذلیل کرنا وغیرہ۔ جبکہ صورتِ مسئولہ ایسی حالت نہیں تھی، چنانچہ شروع میں آپ نے طلاق کے کاغذات از خود بغیر کسی دباؤ کے دوسری بیوی کو ڈرانے کے لیے بنوائے تھے، اس کے بعد پہلی بیوی کی طرف سے دوسری بیوی کو طلاق پر صرف دباؤ (جس کو آپ نے Force سے تعبیر کیا) تھا اور کسی کام پر دباؤ شرعا احکام میں معتبر اور مؤثر نہیں، باقی جو اس نے کہا کہ "طلاق دو،ورنہ میں خلع لے لوں گی" تویک طرفہ عدالتی خلع سے شرعا خلع اور طلاق واقع نہیں ہوتی، اس لیے اس کو اکراہ شمار نہیں کیا جا سکتا، نیز ہمارے عرف اور معاشرے میں عورتیں عام طور پر معمولی ناچاکی اور اختلاف کی وجہ سے خلع یا طلاق لینے یا بچوں کو لے جانے کی دھمکیاں دیتی رہتی ہیں، اس لیے اس طرح کے واقعات کو شرعا اکراہ شمار کرنا ممکن نہیں۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے طلاق نامہ پر دستخط کرنےسےدوسری بیوی کو تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے۔حرمتِ مغلظہ کا مطلب یہ ہے کہ اب فریقین کے درمیان رجوع نہیں ہو سکتا اور موجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا اور یہ اہلِ السنة والجماعت یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا متفقہ مسئلہ ہے، اس لیے اب ان دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔ اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، البتہ اگر یہ عورت اپنے سابقہ خاوند (جس نے تین طلاقیں دی ہیں ) سے ہی نکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد غیرمشروط طور پرکسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ شخص عورت کے ساتھ ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 80) دار الكتاب الإسلامي:
وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الإكراه لما يجيء به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الألم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه؛ لأنه يختلف باختلاف أحوال الناس فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديد وحبس مديد ومنهم من يتضرر بأدنى شيء كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملأ من الناس أو بحضرة السلطان. وفي الخانية، ولو أكره على بيع جارية ولم يعين فباع من إنسان كان فاسدا.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 175) دار الكتب العلمية:
وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
5/ربیع الاول 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


