| 84884 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
کیا ہم کسان اپنی فصل اسٹاک کرسکتےہیں؟ اگرہمیں گورنمنٹ اور بیوپاری حضرات ہماری مرضی کےریٹ نہ دیں تو ہمارےلیےکیاحکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اپنی فصل روک کر رکھ لینا شرعا مکروہ نہیں ،کیونکہ اس فصل کے ساتھ عام لوگوں کا حق متعلق نہیں ہے۔لہذا اگر گورنمنٹ اور بیوپاری کسان کو ان کی مرضی کا نرخ نہ دیں توکسان اپنی فصل اپنےپاس رکھ سکتاہے ۔اس طرح کرنا ممنوعہ ذخیرہ اندوزی کےتحت نہیں آئےگا ،لیکن افضل یہ ہے کہ اپنی فصل بھی اسٹاک نہ کیاکریں،مناسب دام ملنے پر فروخت کردیں اور اگرغلےکی کمی کی وجہ سے لوگ تنگی میں مبتلاء ہوں تواس صورت میں قیمت بڑھنے کی غرض سے فصل روکنا گناہ ہوگا اور کسان کو اپنی ضرورت سے زائد غلہ فروخت کرنے پر مجبور کیاجائےگا۔
حوالہ جات
قال العلامۃالبابرتی رحمہ اللہ:قولہ:( ومن احتكر غلة ضيعته أو ما جلبه من بلد آخر فليس بمحتكر) أما الأول فلأنه خالص حقه لم يتعلق به حق العامة ألا ترى أن له أن لا يزرع ،فكذلك له أن لا يبيع .
(العنایۃشرح الھدایۃ:(280/14
قال العلامۃالکاسانی رحمہ اللہ :وكذلك ما حصل له من ضياعه بأن زرع أرضه ،فأمسك طعامه ،فليس ذلك باحتكار؛لأنه لم يتعلق به حق أهل المصر،لكن الأفضل أن لا يفعل ويبيع.( بدائع الصنائع:23/11)
قال العلامۃعثمان بن علی الزیلعی رحمه اللہ: ( لا غلة ضيعته ، وما جلبه من بلد آخر ): أي لا يكره احتكار غلة أرضه أو احتكار ما جلبه من بلد آخر ؛ لأنه خالص حقه فلم يتعلق به حق العامة ،فلا يكون احتكارا.ألا ترى أن له أن لا يزرع ولا يجلب ،فكذا له أن لا يبيع.(تبیین الحقائق: (414/16
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ : قولہ : ( و لا يكون محتكرا بحبس غلة أرضه ) لأنه خالص حقه لم يتعلق به حق العامة . ألا ترى أن له أن لا يزرع ،فكذا له أن لا يبيعهداية قال ط: والظاهر أن المراد أنه لا يأثم إثم المحتكر وإن أثم بانتظار الغلاء أو القحط لنية السوء للمسلمين ا هـ وهل يجبر على بيعه ؟الظاهر نعم إن اضطر الناس إليه تأمل. (ردالمحتار(572/9:
ارشاد احمد بن عبداالقیوم
دار الا فتاء جامعۃ الرشید،کراچی
2 ربیع الثانی14446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ارشاد احمد بن عبدالقیوم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


