03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تجدید نکاح کا طریقہ
85067نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

کیا بیٹا اپنے والدین کا نکاح تجدیدی طور پر پڑھا سکتا ہے؟ اور اگر وہ والدین یا چچاؤں کا نکاح تجدیدی طور پر پڑھا رہا ہو تو سب کا نام لینا  لازمی  ہے، یا ابو ،امی، چچا ،چچی وغیرہ بھی بول سکتے ہیں؟ اس میں مہر رکھنا لازمی ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تجدید نکاح میں بیٹا اپنے والدین کا نکاح پڑھا سکتا ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اگر مجلس نکاح میں زوجین موجود ہیں تو ان کا نام لیناضروری نہیں ہے،ان کی طرف اشارہ کرکے متعین  کرنے سے بھی نکاح منعقد ہوجائے گا ،  لیکن  اگر زوجین میں سے کوئی موجود نہ ہو تو جب تک گواہوں کے سامنے  ان کا واضح طور پر  تعین  نہ کیا جائے  ،نکاح منعقد نہیں ہوگا، پھر یہ تعین نام و نسب کے ذریعے بھی ہوسکتا ہے اورکسی خاص وصف  کے ذریعے بھی۔

لہذا مذکورہ صورت میں اگر ابو ، امی، چچا، چچی کہنے سے زوجین کا تعین واضح طور پر ہو جاتا ہے تو نکاح کی تجدید ہو جائے گی اور اگر زوجین کا تعین واضح طور پر نہیں ہوتا تو تجدید نکاح نہیں ہوگا۔

اگر تجدید نکاح احتیاطا کیا جارہا ہے یعنی پہلا نکاح باقی ہے تو دوبارہ مہر مقرر  کرنا لازم نہیں اور اگر تجدید پہلے نکاح کے ختم ہو جانے کی وجہ سے ہے تو نیا مہر مقرر کرنا بھی لازم ہے۔

حوالہ جات

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 270):

«ومنها) أن يكون الزوج والزوجة معلومين فلو زوج بنته وله بنتان لا يصح إلا إذا كانت إحداهما متزوجة فينصرف إلى الفارغة، كذا في النهر الفائق جارية سميت في صغرها باسم فلما كبرت سميت باسم آخر قال: تزوج باسمها الآخر إذا صارت معروفة باسمها الآخر والأصح عندي أن يجمع بين الاسمين، كذا في الظهيرية. رجل له بنت واحدة اسمها فاطمة قال لرجل: زوجت منك ابنتي عائشة ولم تقع الإشارة إلى شخصها ذكر في فتاوى الفضلي أنه لا ينعقد النكاح.

ولو قال: زوجت ابنتي منك ولم يزد على هذا وله بنت واحدة؛ جاز، كذا في المحيط.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 22):

«وفيه عن الذخيرة إذا كان للمزوج ابنة واحدة وللقابل ابن واحد فقال زوجت بنتي من ابنك يجوز النكاح، وإن كان للقابل ابنان فإن سمى أحدهما باسمه صح إلخ، وفيه عن الخلاصة إذا زوجها أخوها فقال زوجت أختي ولم يسمها جاز إن كانت له أخت واحدة»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 22):

«وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل وأقره في الفتح والبحر.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 113):

«[تنبيه] في القنية: جدد للحلال نكاحا بمهر يلزم إن جدده لأجل الزيادة لا احتياطا اهـ أي لو جدده لأجل الاحتياط لا تلزمه الزيادة بلا نزاع كما في البزازية. وينبغي أن يحمل على ما إذا صدقته الزوجة أو أشهد، وإلا فلا يصدق في إرادته الاحتياط كما مر عن الجمهور، أو يحمل على ما عند الله تعالى»

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

19 / ربیع الثانی/6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب