03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیرمنقول جائیداد کی حکمی تقسیم کے بعد اپنا حصۂِ میراث ہبہ کرنا
84954میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا ترکہ میں موجود  مکانوں کی حکمی تقسیم (قیمت لگا کر اس کے مطابق حصے تقسیم کرنے)کے بعد کوئی وارث اپنا حصہ کسی دوسرے وارث کو ہبہ کر سکتا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  ترکہ میں موجود غیرمنقول جائیداد حکمی تقسیم کے بعدبھی  ورثہ کے درمیان مشاع طور پرمشترک رہتی ہے ،جبکہ ہبہ کی گئی چیز پر الگ سے  قبضہ کرنا ضروری ہوتا ہے،اس لیے   قابلِ تقسیم مشترک  کا  ہبہ اس کی حسی تقسیم سے پہلے  صحیح   نہیں ہے،لہٰذا اگرکوئی وارث حکمی تقسیم کے بعد  اپنا حصہ کسی دوسرے وارث کو ہبہ کر ے تو وہ درست نہ ہوگا،البتہ میت کے ترکہ سے کوئی چیز لے کر اس کے بدلے اپنا حصہ چھوڑنا (جسے تخارج کہا جاتا ہے)یا ترکہ کی حسی تقسیم کے بعد اپنا متعین شدہ  حصہ کسی کو ہبہ کرنا درست ہے۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 223):

قال: "ولا تجوز الهبة فيما يقسم إلا محوزة مقسومة، وهبة المشاع فيما لا يقسم جائزة" ،وقال الشافعي: تجوز في الوجهين؛ لأنه عقد تمليك فيصح في المشاع وغيره كالبيع بأنواعه، وهذا؛ لأن المشاع قابل لحكمه، وهو الملك فيكون محلا له، وكونه تبرعا لا يبطله الشيوع كالقرض والوصية. ولنا أن القبض منصوص عليه في الهبة فيشترط كماله والمشاع لا يقبله إلا بضم غيره إليه، وذلك غير موهوب، ولأن في تجويزه إلزامه شيئا لم يلتزمه وهو مؤنة القسمة، ولهذا امتنع جوازه قبل القبض لئلا يلزمه التسليم، بخلاف ما لا يقسم؛ لأن القبض القاصر هو الممكن فيكتفى به؛ ولأنه لا تلزمه مؤنة القسمة.

قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (8/ 208)

ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه اهـ.

  محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

   دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

   13/ربیع الثانی/1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب