| 84989 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میں نے دار الافتاء جامعۃ الرشید سے ایک فتویٰ (59/69753) لیا تھا جو منسلک ہے، اس میں میں نے اپنے غیر شادہ شدہ دیور (محمود احمد) کی وفات کے بعد ان کے فلیٹ اور بینک میں موجود پندرہ لاکھ روپے کے مستحقین کے بارے میں پوچھا تھا، فتویٰ میں بتایا گیا تھا کہ یہ فلیٹ اور رقم صرف ان کے بھتیجے (میرے بیٹے محمد اشرف) کو ملے گی، بھتیجیوں (میری بیٹیوں) کا اس میں کوئی حق نہیں ہوگا۔ میرے بیٹے نے بینک سے وہ پندرہ لاکھ روپے تو نکال لیے تھے، لیکن فلیٹ کا کیس ابھی عدالت میں چل رہا تھا کہ اس کا انتقال ہوگیا، فلیٹ ابھی اس کے نام نہیں ہوا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ فلیٹ کس کی ملکیت میں جائے گا؟ میرے بیٹے کی بیوہ (سمیرا اشرف) کے علاوہ ایک بیٹا (محمد انس) اور دو بیٹیاں (علیزہ اور انابیہ) ہیں۔ فلیٹ اس کی بیوہ کے نام ہوگا، اس کی اولاد کو ملے گا یا میرے حصے میں آئے گا؟ محمد اشرف کے والد، دادا، دادی اور نانی کا انتقال اس سے ہوچکا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ فلیٹ آپ کے بیٹے کی دیگر مملوکہ اشیاء کی طرح اس کے ترکہ/ میراث میں شامل ہے، لہٰذا یہ اس کے تمام ورثا میں تقسیم ہوگا، جس کا طریقہ یہ ہے کہ:
آپ کے مرحوم بیٹے نے انتقال کے وقت اس فلیٹ سمیت اپنی ملکیت میں جو منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ،نقد رقم، سونا چاندی، مالِ تجارت غرض ہر طرح کا چھوٹا بڑا جو بھی سازوسامان چھوڑا ہے یا اگر مرحوم کا کسی شخص یا ادارے کے ذمے کوئی قرض واجب تھا، وہ سب اس کا ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین كےمتوسط اخراجات نکالے جائیں،اگر یہ اخراجات کسی نے احسان کے طور پر ادا کردئیے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا۔ پھر دیکھیں اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں۔ اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال میں سے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کُل چھیانوے (96) حصے کر کے والدہ (شبانہ بیگم) کو سولہ (16) حصے، بیوہ (سمیرا اشرف) کو بارہ (12) حصے، بیٹے (محمد انس) کو چونتیس (34) حصے اور دو بیٹیوں (علیزہ اور انابیہ) میں سے ہر ایک کو سترہ، سترہ (17، 17) حصے دیں۔
فیصدی حساب سے والدہ کو 16.666%، بیوہ کو 12.5%، بیٹے کو 35.416%، اور دو بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 17.708%، 17.708% حصہ ملے گا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ……….وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ } [النساء: 11]
{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ } [النساء: 12]
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
15/ربیع الثانی/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


