03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تعزیت کےآخری دن دعاء کےلیے اجتماع اور اس میں شرکت کاحکم
84795جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

تغریت کے آخری دن اجتماعی دعا کا اہتمام کرنا کیسا ہے؟ علماء اس کو بدعت قرار دے رہے ہیں، ہماری مسجد کے تبلیغی حضرات تیسرے دن اجتماعی دعا میں شرکت کرنے کےلیے خصوصی طور پراس نیت سے جاتے ہیں کہ لوگوں کی اصلاح و تذکیر ہو جائے اور ان کودین کی بات پہنچ جائے اس نیت سے تیسرے دن دعا کےلیے جانا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرتعزیتی مجلس ختم کرنے کے لیے اجتماعی دعا کا ایسا اہتمام کیا جاتا ہو کہ اس کے لیےباقاعدہ  کسی عالم دین کو بلایا جاتا ہو، اور شرکت نہ کرنے والوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہو تو پھر یہ اجتماعی دعا ایک ایسے کام کا التزام ہوگا جس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے ، جب شریعت میں کسی طاعت وعبادت کی ادائیگی کسی خاص کیفیت کے ساتھ مخصوص نہ کی گئی ہو تو اس کو کسی خاص کیفیت کے ساتھ ادا کرنے کا التزام کرنا بدعت ہے،اور اگر باقاعدہ اہتمام نہ کیا جاتا ہو بلکہ حاضرین کے ساتھ مل کر کبھی کبھار اجتماعی دعا کرلی جاتی ہواور نہ کرنے پر طعن و تشنیع اور ملامت وغیرہ نہ ہوتی ہو  تو پھر ایسا کرنا بدعت نہیں ہوگا، لہذا تعزیتی مجلس کے اختتام پر اجتماعی دعا کا رواج ختم  کیا جائےاورالتزام کے ساتھ ہوتو اس میں کسی بھی نیت سے شرکت سے اجتناب کیاجائے۔

حوالہ جات

وفیصحيح مسلم:

"لا تختصوا ‌ليلة ‌الجمعة بقيام من بين الليالي، ولا تخصوا يوم الجمعة بصيام من بين الأيام، إلا أن يكون في صوم يصومه أحدكم."(صحيح مسلم،باب كراهة صيام يوم الجمعة منفردا، 1/ 801، رقم الحديث:1144)

قال الامام الشاطبی رحمہ اللہ فی ’’الاعتصام‘‘:

"منها: وضع الحدود كالناذر للصيام قائما لا يقعد ...ومنها: التزام الكيفيات والهيئات المعينة ... ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة."(1/ 53، الباب الأول تعريف البدع وبيان معناها)

وفیه أیضاً:

"فإذا ‌ندب ‌الشرع مثلا إلى ذكر الله، فالتزم قوم الاجتماع عليه على لسان واحد وبصوت، أو في

وقت معلوم مخصوص عن سائر الأوقات؛ لم يكن في ‌ندب ‌الشرع ما يدل على هذا التخصيص الملتزم، بل فيه ما يدل على خلافه."(1/ 318، الباب الرابع في مأخذ أهل البدع بالاستدلال، فصل تحريف الأدلة عن مواضعها)

قال الحافظ ابن دقیق العید رحمہ اللہ فی ’’إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام‘‘:

"إن ‌هذه ‌الخصوصيات بالوقت أو بالحال والهيئة، والفعل المخصوص: يحتاج إلى دليل خاص يقتضي استحبابه بخصوصه. وهذا أقرب."

ثم یقول:

"لأن الحكم باستحبابه على تلك الهيئة الخاصة: يحتاج دليلا شرعيا عليه ولا بد."

ثم یرد علی عید غدیرویقول:

"ما أحدثته الروافض من عيد ثالث، سموه عيد الغدير. وكذلك الاجتماع وإقامة شعاره في وقت مخصوص على شيء مخصوص، لم يثبت شرعا. وقريب من ذلك: أن تكون العبادة من جهة الشرع مرتبة على وجه مخصوص. فيريد بعض الناس: أن يحدث فيها أمرا آخر لم يرد به الشرع، زاعما أنه يدرجه تحت عموم. فهذا لا يستقيم؛ لأن الغالب على العبادات التعبد، ومأخذها التوقيف."(کتاب الصلاۃ، باب فضل الجماعة ووجوبها، 1/ 200، ط: مطبعة السنة المحمدية)

یقول الشیخ الشاہ ولی اللہ رحمہ اللہ  فی’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘:

"ومنها ‌التشدد وحقيقته اختيار عبادات شاقة لم يأمر بها الشارع كدوام الصيام والقيام التبتل وترك التزوج، وأن يلتزم السنن والآداب كالتزام الواجبات ... فإذا صار هذا المتعمق أو المتشدد معلم قوم ورئيسهم ظنوا أن هذا أمر الشرع ورضاه، وهذا داء رهبان اليهود والنصارى."

(باب أحكام الدين من التحريف، 1/ 211، ط: دار الجيل بيروت)

قال العلامہ ابن نجيم المصری الحنفی رحمہ اللہ فی’’البحر الرائق شرح کنز الدقائق‘‘:

"ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص ‌بوقت ‌دون ‌وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به؛ لأنه خلاف المشروع."  (كتاب الصلاة، باب العيدين، 2/ 172، ط:دار الكتاب الإسلامي بيروت)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

28/2/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب