| 85568 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
کیا اس طرح کی ڈیجیٹل تصاویر جس میں آنکھیں نہ بنی ہوں یا چہرہ نامکمل ہو بنانا یا اپنے ڈیزائن میں استعمال کرنا جائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو میں نے اگر اپنے ڈیزائن میں اسے پہلے استعمال کیا ہو جب تک میری معلومات یہ تھیں کہ آنکھوں کے بنا تصویر کی گنجائش ہے، تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں میں کیا حکم ہے؟
تصویرالف https://drive.google.com/file/d/12ueY7Nea1Qc0ZzkjvJLV3FJl8ApsOzI9/view?
usp=drivesdk
تصویر ب:
https://drive.google.com/file/d/12pgYk5AU7DQU33F
xqtdS4CfLBu4Amq2/view?usp=drivesdk
تصویرج https://drive.google.com/file/d/12h29QJbsjgC8cSvlMsHmGe9xaQU6yKPb/vie
نوٹ تصاویر کے لنکس سیمپل کے طور پر اٹیچ کردیے ہیں۔ کروم ٹیب پر لنک کاپی پسیٹ کرنے سے تصاویر اوپن ہوجائیں گی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایسی تصاویر جن میں ہونٹ ،ناک اور آنکھیں نہ ہوں،اُن کو ہر طرح کے ڈیجیٹل اور پرنٹڈ ڈیزائن میں استعمال کرنا جائز ہے،اور اس کے ذریعے جو آمدنی ہو تو وہ بھی حلال ہے۔اگر صرف ڈیجیٹل استعمال تک محدود ہوں تو اگر کوئی اور خرابی نہ ہو(مثلا ً خاتون کی تصویر یا برہنہ مرد کی تصویر یا کوئی اور غیر شرعی تصویر) تو اس صورت میں جب تک وہ ڈیجیٹل فارم میں ہے اس میں چہرہ نظرآئے تو بھی حرج نہیں۔البتہ اس کا پرنٹ لینا جائز نہ ہوگا۔
حوالہ جات
(أو مقطوعة الرأس أو الوجه)أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه (أو لغير ذي روح لا) يكره لأنها لا تعبد وخبر جبريل مخصوص بغير المهانة......(الدر المختار: 88)
الصورة عام في ذي الروح وغيره، والتمثال خاص بمثال ذي الروح ويأتي أن غير ذي الروح لا يكره قال
القهستاني: وفيه إشعار بأنه لا تكره صورة الرأس،(حاشیۃ ابن عابدین1/ 647)
(قوله أو مقطوعة الرأس) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي، وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق له أثر، أو بطليه بمغرة أو بنحته، أو بغسله لأنها لا تعبد بدون الرأس عادة .وأما قطع الرأس عن الجسد بخيط مع بقاء الرأس على حاله فلا ينفي الكراهة لأن من الطيور ما هو مطوق فلا يتحقق القطع بذلك، وقيد بالرأس لأنه لا اعتبار بإزالة الحاجبين أو العينين لأنها تعبد بدونها وكذا لا اعتبار بقطع اليدين (حاشیۃ ابن عابدین:1/ 649)
(قوله أو مقطوع الرأس) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق لها أثر أو يطليه بمغرة ونحوها أو بنحته أو بغسله وإنما لم يكره لأنها لا تعبد بدون الرأس عادة....... وكذا لو محى وجه الصورة فهو كقطع الرأس.(البحر الرائق:2/30)
وإن كانت رقما فأربعة أقوال: الأول: مطلقا، على ظاهر قوله في حديث الباب: إلا رقما في ثوب، الثاني: المنع مطلقا حتى الرقم، الثالث: إن كانت الصورة باقية الهيئة قائمة الشكل حرم وإن قطعت الرأس أو تفرقت الأجزاء جاز، قال: وهذا هو الأصح(فتح الباري:10/391)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
22/جمادی الاولیٰ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


