| 85748 | خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
جناب عالی السلام علیکم سوال یہ ھے کہ کتوں کا گھروں پر یا کسی کروائے کی جگہ لیکر وھاں انکی افزائش کرنا اور انکو بیچنا اور خریدنا یعنی کتوں کا کاروبار کرنا کیسا ھے؟ کیا ان سے کمائی کی گئی آمدنی حلال ھے؟ اس آمدنی سے گھر کے مختلف اخراجات اٹھانا مثلاً سودا سلف ، بچوں کی تعلیم و تربیت، پہننے کے لئے کپڑے وغیرہ اور دوسری اشیاء ے ضروریہ خریدنا اور استعمال کرنا، ھر قسم کی یوٹیلیٹی بلز ادا کرنا کیسا ھے؟؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بلا ضرورت کتا پالنے کی شرعا اجازت نہیں ہے۔ رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتےجس گھر میں کتا ہو ۔ البتہ ضرورت ہو تو کتا پالا جا سکتا ہے جیسے شکار کے لیے کتا پالنا یا گھر اور کھیت کی حفاظت کے لیے کتا رکھنا وغیرہ ۔اسی طرح کاروباریا کاروبار کے لیے افزائش بھی انہیں کتوں کی کرسکتے ہیں جن کو ضرورت کی وجہ سے پالنا جائز ہے ۔ اور اس سے حاصل شدہ آمدن کو استعمال کرسکتے ہیں ۔لہذا جوکتے صرف شوقیہ طور پر پالے جاسکتے ہیں ،ان کا کوئی جائز استعمال نہیں،ان کتوں کا کاروبارکرنا یا کاروبار کے لیے افزائش کرناجائز نہیں ۔
حوالہ جات
روی الامام بخاری فی صحیح البخاری (رقم الحدیث:3144) عن ابن عباس، عن أبي طلحة رضي الله عنهم،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة).
بيع الكلب المعلم عندنا جائز وكذلك بيع السنور وسباع الوحش والطير جائز عندنا معلما كان أو لم يكن كذا في فتاوى قاضي خان.وبيع الكلب غير المعلم يجوز إذا كان قابلا للتعليم وإلا فلا، وهو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي قال محمد رحمه الله تعالى وهكذا نقول في الأسد إذا كان بحيث يقبل التعليم ويصاد به أن يجوز البيع فإن الفهد والبازي يقبلان التعليم على كل حال فيجوز بيعهما على كل حال كذا في الذخيرة وفي الفتاوى العتابية.( الفتاوى الهندية :3/ 114)
قال إبراهيم الحَلَبي رحمہ اللہ : (مسائل شتى)يصح بيع الكلب والفهد وسائر السباع علمت أو لا.
( ملتقى الأبحر:151)
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ :وأما بيع كل ذي ناب من السباع سوى الخنزير كالكلب، والفهد، والأسد والنمر، والذئب، والهر، ونحوها فجائز عند أصحابنا، وعند الشافعي رحمه الله: لا يجوز ثم عندنا: لا فرق بين المعلم، وغير المعلم في رواية الأصل فيجوز بيعه كيف ما كان . ( بدائع الصنائع :5/ 143)
قال العلامۃ الشامی رحمہ اللہ : (قوله علمت أو لا) تصريح بما فهم من عبارة محمد في الأصل، وبه صرح في الهداية أيضا لكن في البحر عن المبسوط، أنه لا يجوز بيع الكلب العقور الذي لا يقبل التعليم في الصحيح من المذهب، وهكذا نقول في الأسد إن كان يقبل التعليم، ويصطاد به يجوز بيعه، وإلا فلا. ( رد المحتار :5/ 227)
قال العلامۃ تقی العثمانی حفظہ اللہ :اما الحنفیۃ، فالظاھر من متونھم انھم فرقوا بین ماقامت المعصیۃ بعینہ، فکرھوا بیعہ کبیع السلاح من اھل الفتنۃ، وبیع امرد ممن یفجر بہ ،وذالک باحدی الوجوہ الثلاثۃ: النیۃ او التصریح او تعین المبیع للمعصیۃ بحیث لا یحتمل غیر المعصیۃ . ھذہ الثلاثۃ مما تقوم المعصیۃ فیہ بعین العقد، وھو عین فعل المعین .(فقہ البیوع :189 )
حمادالرحمن بن سیف الرحمن
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
۰۵ جمادی الثانی ۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الرحمن بن سیف الرحمن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


