03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سفرمیں مکمل نماز پڑھنےسے متعلق روایت کی تحقیق
86614حدیث سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

ہمارے ہاں درجہ خامسہ میں ادب الخلاف کے نام سے ایک کتاب داخلِ نصاب ہے، جوعرب کے ایک عالم شیخ محمد صالح نے  تصنیف کی ہے، اس میں سننِ بیہقی کی ایک حدیث ذکر کی گئی  ہے، جس میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ہوتے تھے، ہم میں سے بعض روزہ رکھتےاوربعض افطار کرتے،بعض  مکمل نماز پڑھتے اور بعض قصر کرتے اور کوئی کسی پر اعتراض نہیں کرتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا روایت صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے توسفرکی حالت میں پوری نماز پڑھنے کا کیا جواب ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کیے گئے مضمون کی روایت پانچ  صحابہ کرام حضرت ابوسعید خدری، حضرت ابو موسی اشعری، حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت انس بن مالک، رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، ان پانچوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی طرق کی تفصیل درج ذیل ہے:

نمبر1۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت:

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کو  امام احمد بن حنبل نے درج ذیل سند کے ساتھ ذکر کیا ہے:

مسند أحمد (17/ 146، رقم الحديث: 11083) ط: دار  الرسالة، بيروت:

حدثنا إسماعيل، أخبرنا الجريري، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد الخدري، قال: " كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فمنا الصائم ومنا المفطر، فلا يجد الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم يرون أنه - يعني من وجد قوة فصام فإن ذلك - حسن. ويرون أنه من وجد ضعفا فأفطر فإن ذلك.

اس کے علاوہ امام ابن ابی شیبہ، امام نسائی، امام ابو یعلی، امام ابن خزیمہ،  امام ابوعوانہ اور امام ترمذی رحمہما للہ نے بھی اپنی کتب میں  مختلف طرق کے ساتھ اس روایت کو نقل کیا ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس روایت کو حسن صحیح قرار دیا ہے،  اس روایت کے تمام طرق میں بھی سوال میں مذکور اضافہ کا ذکر موجود نہیں۔[1]

سنن الترمذي ت شاكر (3/ 83، رقم الحديث: 713) مطبعة مصطفى الحلبي مصر:

حدثنا نصر بن علي قال: حدثنا يزيد بن زريع قال: حدثنا الجريري، ح وحدثنا سفيان بن وكيع قال: حدثنا عبد الأعلى، عن الجريري، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد قال: «كنا نسافر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فمنا الصائم، ومنا المفطر، فلا يجد المفطر على الصائم، ولا الصائم على المفطر، فكانوا يرون أنه من وجد قوة فصام فحسن، ومن وجد ضعفا فأفطر فحسن»: «هذا حديث حسن صحيح»

نمبر2۔حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت:

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی  روایت کو امام بزار رحمہ اللہ نے درج ذیل سند کے ساتھ ذکر کیا ہے:

مسند البزار (8/ 134، رقم الحدیث: 3144) مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة:

حدثنا إبراهيم بن المستمر، قال: أخبرنا عمرو بن عاصم الكلابي، قال: أخبرنا المعتمر بن سليمان، قال: أخبرنا الوليد بن مروان، قال: أخبرنا غيلان بن جرير، عن أبي بردة، عن أبي [ص:135] موسى، رضي الله عنه قال: «كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، منا الصائم ومنا المفطر، فلم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم» ، ولا نعلم روى هذا الحديث عن غيلان إلا الوليد بن مروان.

مذکورہ بالا روایت کو امام طبرانی رحمہ اللہ نے اپنی المعجم الأوسط (7/227)میں بھی ذکر کیا ہے۔ البتہ اس میں عمرو بن عاصم سے نقل کرنے والے ابوغسان جزوعی ہیں، اس کے بعد اوپر تک مکمل سند ایک ہی ہے، ان دونوں طرق میں حالت سفر میں مکمل نماز پڑھنے اور قصر پڑھنے کے الفاظ مذکر نہیں۔

نمبر3۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت:

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے درج ذیل سند کے ساتھ ذکر کیا ہے، اس روایت میں بھی سفر میں مکمل نماز پڑھنے کا ذکر موجود نہیں۔

صحيح ابن خزيمة ط 3 (2/ 975، رقم الحديث: 2029) الناشر: المكتب الإسلامي:

حدثنا أبو عمار الحسين بن حريث، حدثنا مروان بن معاوية الفزاري، حدثنا عاصم الأحول، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد الخدري وجابر بن عبد الله أنهما سافرا مع النبي - صلى الله عليه وسلم - [وكان] يصوم الصائم ويفطر المفطر، فلا يعيب المفطر على الصائم، ولا الصائم على المفطر.

نمبر4۔حضرت  عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت:

حضرت  عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کو امام بزار رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں درج ذیل سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

مسند البزار (6/ 368، رقم الحديث: 2384) مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة:

حدثنا تميم بن المنتصر، قال: أخبرنا إسحاق بن يوسف، عن شريك، قال: أخبرنا مسلم، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، قال: «خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم منا الصائم ومنا المفطر، فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم»

نمبر5۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی روایت:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت دو طرق سے مروی ہے، ان طرق کی تفصیل درج ذیل ہے:

پہلا طریق:

اس روایت کے پہلے طریق کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں درج ذیل سند کے نقل کیا ہے:

صحيح البخاري (3/ 34، رقم الحديث: 1947) دار طوق النجاة:

 حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن حميد الطويل، عن أنس بن مالك قال: «كنا نسافر مع النبي صلى الله عليه وسلم فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم»

امام بخاری رحمہ اللہ کے علاوہ امام ابن وہب نےاپنی کتاب الجامع (1/163)، امام مالک نے اپنی موطأ  (1/308)، امام شافعی نے اپنی مسند(1/268)، امام ابوداود نے اپنی سنن (4/77)، امام ابن حبان نے اپنی صحیح (8/328) میں اور امام طحاوی  نے شرح معانی الآثار (2/68) میں اور دیگر بہت سے محدثین کرام رحمہم اللہ نے  اس روایت کو ذکر فرمایا ہے۔ اس طریق کو امام حمید الطویل حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور اس میں صرف یہ قصہ نقل فرماتے ہیں کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے، جس میں کوئی روزہ دار کسی مفطر پر اور کوئی مفطر کسی روزہ دار پر کوئی اعتراض نہ کرتا تھا۔

 دوسرا طریق:

اس کے دوسرےطریق کو علامہ بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی  سنن میں درج ذیل سند کے ساتھ ذکر فرمایا ہے:

السنن الكبرى للبيهقي (3/ 207) دار الكتب العلمية، بيروت:

وأخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان، أنبأ أحمد بن عبيد الصفار، ثنا أبو مسلم، ثنا عبد الله بن رجاء، ثنا عمران بن زيد التغلبي، عن زيد العمّي، عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: " إنا معاشر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كنا نسافر فمنا الصائم ومنا المفطر، ومنا المتم ومنا المقصر، فلم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم، ولا المقصر على المتم، ولا المتم على المقصر "

صرف اس روایت میں سفرکی حالت میں نماز پوری پڑھنے کا ذکر ہے، مذکورہ بالا روایت سننِ بیہقی کے علاوہ تلاش کے باوجود کسی کتاب میں نہیں ملی اور یہ روایت بھی اصولِ حدیث کی روشنی میں قابلِ استدلال نہیں، کیونکہ اس روایت کی سند میں زید بن الحواری  العمّی نامی راوی موجود ہے، ان کی کنیت ابو الحواری ہے، یہ بصرہ کے رہنے والے تھے اور ہرات کے قاضی تھے، ان کو اکثرائمہ جرح وتعدیل نے ضعیف قرار دیا ہے اوربعض حضرات نے ان پر شدید جرح بھی کی ہے، چنانچہ امام عجلی نے "لیس بشیئ"، امام ابن حزم ظاہری اور امام ابن تیمیہ نے "متروک" قرار دیا ہے اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے موضوع درجے کی روایات بھی نقل کرتے ہیں، جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی، اور مذکورہ روایت بھی انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی روایت کی ہے۔ نیزحافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میزان الاعتدال میں اس راوی کی بعض مناکیر ذکر کی ہیں اوران میں سے بعض  کو باطل قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس روایت میں موجود عمران بن زيد تغلبی نامی راوی پر بھی ائمہ کرام رحمہم نے جرح کی ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ یہ ثقات کی روایت کے خلاف ضعیف راوی کا اضافہ ہے اور ضعیف راوی کا اضافہ ثقات کی روایت کے خلاف ائمہ کرام رحمہم اللہ کے نزدیک قبول نہیں، لہذا سوال میں ذکر کی گئی روایت اصول حدیث کی روشنی میں قابلِ استدلال نہیں، اسی لیے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی میں اس روایت کو نقل کر کے "کذب بلاریب" کے الفاظ نقل فرمائے ہیں اور فرمایا کہ صحیح روایت میں  صرف روزہ کے افطار کا ذکر ہے، جس کو امام بخاری رحمہ اللہ سمیت کئی ائمہ کرام نے نقل کیا ہے، جن کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔

[1] صحيح ابن خزيمة (3/ 260، رقم الحدیث: 2030) المكتب الإسلامي - بيروت:

حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب يعني الثقفي، ح وحدثنا بندار أيضا , حدثنا سالم بن نوح قالا: حدثنا الجريري، ح وحدثنا أبو هاشم زياد بن أيوب عن إسماعيل, حدثنا سعيد وهو الجريري , عن أبي نضرة، عن أبي سعيد الخدري قال: «سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان , فمنا الصائم ومنا المفطر , فلم يعب المفطر على الصائم , ولا الصائم على المفطر»

مستخرج أبي عوانة (2/ 194۔ رقم الحدیث: 2819) الناشر: دار المعرفة - بيروت:

حدثنا أبو أمية، حدثنا عبيد الله القواريري، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا الجريري، عن أبي نضرة،، عن أبي سعيد قال: «كنا نسافر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فمنا الصائم ومنا المفطر، فلا يعيب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم»

حوالہ جات

تقريب التهذيب (ص: 223، الترجمة: 2131) دار الرشيد، سوريا:

زيد ابن الحواري أبو الحواري العمي البصري قاضي هراة يقال اسم أبيه مرة ضعيف من الخامسة.

الثقات للعجلي ط الدار (1/ 377، رقم: 527) مكتبة الدار - المدينة المنورة:

زيد بن الحواري العمى بصرى ضعيف الحديث ليس بشيء.

الكامل في ضعفاء الرجال (4/ 147، الترجمة: 699) الكتب العلمية، بيروت:

حدثنا ابن العراد، حدثنا يعقوب بن شيبة، حدثني محمد بن إسماعيل، عن أبي داود، قال: سمعت يحيى بن معين يقول زيد العمي هو زيد الحواري أبو الحواري. سمعت أبا يعلى يقول سئل يحيى بن معين يعني، وهوحاضر عن زيد العمي فقال ليس بشيء.............. أخبرنا أبو يعلى، حدثنا محمد بن محمد البصري، حدثنا عبد الرحيم بن زيد العمي، عن أبيه عن الحسن، عن أنس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من مشى في حاجة أخيه المسلم كتب الله له بكل خطوة يخطوها سبعين حسنة ومحا عنه سبعين سيئة إلى أن يرجع من حين فارقه فإن قضيت حاجته على يديه خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه وإن هلك فيما بين ذلك دخل الجنة بغير حساب. قال الشيخ: ولعل البلاء فيه من ابنه عبد الرحيم فإنه ضعيف مثل أبيه.

ميزان الاعتدال (2/ 102، الترجمة: 3003) دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت:

زيد بن الحوارى العمى أبو الحوارى البصري، قاضى هراة.

عن أنس، وسعيد بن المسيب، وطائفة. وعنه ابناه عبد الرحيم، وعبد الرحمن، وشعبة، وهشيم. قال ابن معين: صالح. وقال - مرة: لا شئ. وقال مرة: ضعيف يكتب حديثه. وقال أبو حاتم: ضعيف يكتب حديثه. وقال الدارقطني: صالح............. نعيم بن حماد، حدثنا عبد الرحيم بن زيد العمى، عن أبيه، عن سعيد بن المسيب، عن عمر - مرفوعاً: سألت ربى فيما اختلف فيه أصحابي من بعدى، فأوحى الله إلى: يا محمد إن أصحابك عندي بمنزلة النجوم بعضهم أضوأ من بعض، فمن أخذ بشئ مما هم عليه من اختلافهم فهو عندي على هدى. فهذا باطل.

الإحكام في أصول الأحكام لابن حزم  (6/ 244) دار الحديث القاهرة:

 وكتب إلي أبو عمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر النمري أن هذا الحديث روي أيضامن طريق عبد الرحمن بن زيد العمي عن أبيه عن سعيد بن المسيب عن ابن عمر و من طريق حمزة الجزري عن نافع عن ابن عمر قال وعبد الرحيم بن زيد وأبوه متروكان وحمزة الجزري مجهول. وقال أبو حاتم ابن حبان: يروي عن أنس أشياء موضوعة لا أصول لها حتى يسبق إلى القلب أنه المتعمد لها، وكان يحيى يمرض القول فيه، وهو عندي لا يجوز الاحتجاج بخبره ولا أكتبه إلا للاعتبار .

المجروحين لابن حبان (1/ 309، رقم: 369) دار الوعي – حلب:

زيد العمي هو زيد بن الحواري كنيته أبو الحواري يروي عن أنس ومعاوية بن قرة روى عنه الثوري وشعبة وكان قاضيا بهراة يروي عن أنس أشياء موضوعة لا أصل لها حتى سبق إلى القلب أنه المتعمد لها وكان يحيى يمرض القول فيه وهو عندي لا يجوز الاحتجاج بخبره ولا كتابة حديثه إلا للاعتبار.

علل الحديث لابن أبي حاتم (3/ 529، رقم: 1061) الناشر: مطابع الحميضي:

وسئل أبي عن حديث رواه أسد ابن موسى ،عن عمران بن زيد التغلبي ، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن سالم، عن عائشة، عن النبي (ص) قال: ما ضرب مؤمن من عرق، إلا حط الله به خطيئة، وكتب له به حسنة، ورفع له به درجة. قال أبي: هذا إسناد مضطرب، وعمران هو: أبو يحيى الطويل، كوفي ليس بالقوي، يكتب حديثه.

تاريخ الإسلام للحافظ الذهبي  (10/ 374،رقم: 298) دار الكتاب العربي، بيروت:

عمران بن زيد التغلبي، البصري، الملائي، الطويل. - ت. ق- عن: سعد بن إبراهيم، وزيد العمي، وأبي حازم الأعرج. وعنه: ابن المبارك، وأسد بن موسى، وأحمد بن يونس، وعلي بن الجعد، وعبيد الله العيشي. كناه عبد الصمد بن النعمان: أبا يحيى. قال أبو حاتم: يكتب حديثه. وقال ابن معين: لا يحتج به. وقال غيره: صالح الحديث.

مجموع الفتاوى لشيخ الاسلام ابن تيمية(24/ 154) المصحف الشريف، المدينة النبوية:

معاشر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كنا نسافر: فمنا الصائم ومنا المفطر ومنا المتم ومنا المقصر فلم يعب الصائم على المفطر ولا المتم على المقصر ". هو كذب بلا ريب وزيد العمي ممن اتفق العلماء على أنه متروك والثابت عن أنس إنما هو في الصوم.

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (4/ 77، رقم الحديث: 2405) الناشر: دار الرسالة العالمية:  

حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زائدة، عن حميد الطويل عن أنس، قال: }سافرنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في رمضان، فصام بعضنا، وأفطر بعضنا، فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم.{ قال الشيخ شعيب الأرنؤوط: إسناده صحيح.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

18/رجب المرجب 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب