| 86994 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرض خواہ مر جانے کے بعد قرض کی رقم قرض دار کس کو ادا کرے ؟ بیوہ کو یا اولاد کو ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کے بالغ ورثاء میں سے جس کو بھی حوالہ کرے، ادائیگی ہوجائے گی۔ پھر اُن پر لازم ہے کہ شریعت کے مطابق تمام ورثہ میں تقسیم کرلیں۔
حوالہ جات
قال العلامۃالسرخسی رحمہ اللہ تعالی : فأقرب العصبات الابن، ثم ابن الابن، وإن سفل، ثم الأب، ثم الجد أب الأب، وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب. ( المبسوط للسرخسي:29/174(
قال العلامۃ علاءالدین الحصکفي رحمہ اللہ تعالی :ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف :جزء الميت ،ثم أصله ثم جزء أبيه، ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب ،فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل، ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل).
(الدرالمختار:6/ 774(
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
2رمضان،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


