03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی بینک کو زمین کرائے پر دینا
85566جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم مفتی صاحب! ہم نے اپنی ایک جائیداد ایک غیر اسلامی بینک الفلاح کو کرائے پر دی ہےاور  ہمارے گھر کے اکثر اخراجات اسی کرائے سے ادا کیے جاتے ہیں۔براہ کرم یہ بتائیے کہ یہ جائز ذریعۂ  آمدن ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بیمار والد کے ساتھ مشترکہ خاندانی نظام میں رہتے ہیں۔کیا غیر اسلامی بینک  سے حاصل ہونے والی مشترکہ  آمدن  کی وجہ سے والدین اور دوسرے بھائیوں سے علیحدہ ہونا  جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1.   اگر سودی بینک کوجائیداد کرائے پر دیتے وقت ایگریمنٹ میں سودی کاروبار میں معاونت   کی صراحت ہو تواجارہ کا   یہ معاملہ اور اس سے حاصل ہونے والا کرایہ حرام ہے۔

2.   اگر ایگریمنٹ میں سودی کاروبار میں تعاون کی صراحت  تونہ ہو مگر   نیت ہو تو بھی یہ معاملہ اور اس کا کرایہ ناجائز اور حرام ہے۔

درج بالا دونوں صورتوں میں چونکہ کرایہ ناجائز اور حرام ہے اور آگاہ ہونے کے بعد بھی آپکے خاندان والے اس معاملے کو ختم نہیں کرتے تو آپ کوان سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔

1.   اگر    سودی کاروبار میں تعاون کی نہ ایگریمنٹ میں صراحت ہو، نہ اس کی  نیت ہو اور اور نہ اس کا علم ہو کہ  یہ جگہ   بینک  کے طور پر استعمال کی جائے گی تو یہ معاملہ بلا کراہت جائز ہے۔

2.   اگر    سودی کاروبار میں تعاون کی ایگریمنٹ میں صراحت  نہ ہو اورنہ اس کی  نیت ہو مگر اس بات کا علم ہو کہ یہ جگہ بینک  کاری میں استعمال کی جائے گی تو چونکہ  بینک اسلامی اور غیر اسلامی دونوں طرح کے ہوتے ہیں تو جائز اور ناجائز دونوں طرح کے استعمال ممکن ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ کراہت کے ساتھ  جائز ہے ۔ وگرنہ اس صورت میں بھی  اگر جائیداد کا   استعمال سودی بینک  ہی کے ساتھ خاص ہو (یعنی کسی وجہ سے اگر اس جگہ کا استعمال   اسلامی بینک کاری کے لیے ممکن نہ ہو  )  تو یہ معاملہ ناجائز اور مکروہ ہے۔

مذکورہ  ان دونوں صورتوں میں  کرائے کا حکم  یہ ہے کہ چونکہ سودی بینک  کے ڈیپوزٹس اس کی آمدن سے زیادہ ہوتے ہیں  لہذا اگر کرایہ لیا گیا تو اس میں کراہت کے ساتھ ملکیت آجائے گی۔ اگر آپ کا مسئلہ اس دو صورتوں سے متعلق ہے اور آپ کے لیے علیحدہ ہونا مشکل بھی ہے تو آپ  اپنے خاندان والوں سے علیحدہ نہ ہوں   اور اپنے خاندان والوں  کو ترغیب دیں کہ وہ اپنی جائیداد کسی جائز کاروبار   یاکسی اسلامی بینک کو کرائے پر دیں اور اپنے خاندان والوں کے اصلاحِ احوال کی  کوشش  جاری رکھیں۔

حوالہ جات

قال برهان الدین المرغیناني رحمه الله تعالى :ومن أجر بيتا ليتخذ فيه بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر بالسواد فلا بأس به" وهذا عند أبي حنيفة، وقالا: لا ينبغي أن يكريه لشيء من ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية. ( الهداية: 4/ 378)

قال كمال بن الهمام رحمه الله تعالى :ثم إنه ذكر في الذخيرة والمحيط: إذا استأجر الذمي من المسلم دارا ليسكنها فلا بأس بذلك ...قال شيخ الإسلام: وأراد بهذا إذا استأجرها الذمي ليسكنها، ثم أراد بعد ذلك أن يتخذ كنيسة أو بيعة فيها، فأما إذا استأجرها في الابتداء ليتخذها بيعة أو كنيسة لا يجوز. إلى هنا لفظ الذخيرة والمحيط. ( فتح القدير:10/ 59,60)

‌قال ابن مازہ رحمه الله تعالى :رجل ‌أهدى إلى ‌إنسان أو أضافه، إن كان غالب ماله من حرام لا ينبغي أن يقبل ويأكل من طعامه ما لم يخبر أن ذلك المال حلال استقرضه أو ورثه، وإن كان غالب ماله من حلال فلا بأس بأن يقبل ما لم يتبين له أن ذلك من الحرام؛ وهذا لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام وتخلو عن كثيره، فيعتبر الغالب ويبنى الحكم عليه. (المحيط البرهاني: 5/ 367)

قال شیخ الإسلام تقي العثماني دامت برکاتہ: ومنہ یعلم حکم التعامل مع البنوک الربویة وان اموال البنک الربوی مخلوطة بالحلال والحرام،فان راس المال الذی یفترض فیہ انہ حلال مالم یعرف خلاف ذلک،ومنہا الاموال المودعة فیہامن قبل المودعین ،ویفترض فیہاایضا انہاحلال مالم یثبت خلاف ذالک،ومنہاایرادات البنک عوضا عن الخدمات الجائزة شرعا،مثل تحویل المبالغ،وعملیات التبادل العاجل للعملات وغیرھا وھی حلال ایضا۔وفیہا ایراداتہا الغالبة الحاصلة من تعاملتہ الربویة،وھی حرام،فاموال البنک الربوی داخل فی الصورة الثالثة من القسم الثالث،فیجوزالتعامل معھابقدرمافیہا من الحلال.(فقہ البیوع:1061/2)

محمد اسماعیل بن نجیب الرحمان

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۲۱ محرم الحرام ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل ولد نجیب الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب