| 86071 | شرکت کے مسائل | مشترک چیزوں سے انتفاع کے مسائل |
سوال
والد مرحوم کے ترکہ کا ساڑھے پانچ مرلےکا ا یک مکان ہے،ورثہ میں 4 لڑکے اور 3لڑکیاں اور مرحوم کی بیوہ ہیں۔مرحوم کا جس وقت انتقال ہوا تھا تو مذکورہ گھر سنگل اسٹوری جو کہ دو پورشن[دائیں بائیں ] پر مشتمل تھا، کچھ ورثہ نے مشترکہ پیسے ڈال کر اس سنگل سٹوری کی مرمت بھی کی ۔اب ایک بھائی نے اس سنگل سٹوری کے اوپر ایک طرف ایک پورشن اپنے ذاتی پیسے سےورثہ کی صریح اجازت کے بغیر تعمیر کر لیااور تین یا چار سال سے کرایہ وصول کر رہے ہیں ،جبکہ دوسری طرف والا پورشن نامکمل ہے۔اب بھائی کا یہ دعوی ہے کہ یہ پورشن میں نے اپنے پیسے سے تعمیر کیا ہےاس لیےیہ میری ملکیت ہے۔لہذا جب بھی مکان فروخت ہو گا تو مجھے میرے تعمیر کردہ پورشن کی بوقت فروخت والی قیمت ادا کی جائے گی ،اورباقی مکان شرعی حصوں کے مطابق تمام ورثہ میں تقسیم ہو گا۔
اب سوال یہ ہے کہ بھائی کا ورثہ کی صریح اجازت کے بغیر تعمیر کرنا کیسا ہے؟ اور خاص کر اپنی ذات کے لیے تعمیر کرنا نیز جو کرایہ وہ وصول کر رہے ہیں اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟اس کےعلاوہ پہلی سٹوری کی مرمت میں جن ورثہ نے جو رقم خرچ کی ہے،اس کا شرعی حکم بیان فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں آپ کے بھائی کا وراثت تقسیم کرنے سے پہلے ورثہ کی صراحتًایادلالتًا اجازت کے بغیرمشترکہ جائیداد میں اپنےلیے تعمیر کرنا جائز نہیں تھا،البتہ ورثہ کی اجازت کے بغیر مشترکہ مکان میں اپنی رقم سے تعمیر کرنے سے وہ صرف تعمیر کا مالک بن گیاہے۔اب ورثہ کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ اسے تعمیر اکھاڑنے پر مجبور کریں۔ اور اگرتمام ورثہ باہمی رضامندی سے اس کو تعمیر کی قیمت ادا کردیں تو یہ بھی جائز ہے، اسی طرح اگر بیچنے تک ویسے چھوڑ دیں اورفروختگی کے بعد تعمیر کردہ پورشن کی قیمت تعمیرکرنےوالےبھائی کو دیں، تویہ بھی درست ہے ۔
اگربھائی نے سنگل اسٹوری کی اوپروالی تعمیرورثہ کی اجازت سےاپنے لیے بنائی ہوتو حاصل شدہ کرایہ پرصرف بھائی کا حق ہے۔اور اگر اس میں ورثہ کی صراحتًایا دلالتًا(تعمیرکرتے وقت ورثہ نے ناراضگی کا اظہار نہ کیاہو) اجازت شامل نہ ہو، تو وصول شدہ کرایہ میں ورثہ کو بھی پلاٹ کی حد تک شریک کریں۔یعنی اندازہ لگاکرصرف تعمیرکی حد تک کاکرایہ بھائی لےلے اور باقی کرائے میں بقیہ ورثہ کو متناسب حصے کے ساتھ شریک کرے۔
واضح رہےکہ اگر بھائی کی تعمیر کی وجہ سے گھر کی قیمت میں کمی آئی ہو( مثلاً گھر کانقشہ خراب کیا ہو،جس کی وجہ سے خریدار کم قیمت پر لےرہاہے)تو بھائی پر اس کمی کی بقدر رقم ورثہ کو واپس کرنا واجب ہے۔ پہلی اسٹوری کی مرمت پر آنے والا خرچہ تمام ورثہ پر ان کےحصوں کے مطابق آئےگا۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الکساني رحمہ اللہ :ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه.(بدائع الصنائع :(234/2
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:( بنى أحدهما ) أي أحد الشريكين ( بغير إذن الآخر ) في عقار مشترك بينهما ( فطلب شريكه رفع بنائه قسم ) العقار ( فإن وقع ) البناء ( في نصيب الباني فيها ) ونعمت ( وإلا هدم ) البناء وحكم الغرس كذلك قوله ( وإلا هدم البناء ) أو أرضاه بدفع قيمته. (ردالمحتارعلی الدر:(268/6
قال العلامۃ داماد أفندي رحمہ اللہ: وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة ،فالعمارة له أي للزوج؛ لأن الآلة التي بنى بها ملكه، فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه، فيبقى على ملكه فيكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه ،فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين ،لكن بقي صورة وهي أن يعمر لنفسه بإذنها، ففي الفرائد: ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها ،ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته. انتهى. )مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر : (743/2
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: (سئل) في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه وعن ورثة غيره فهل يكون القصر لبانيه ويكون كالمستعير؟(الجواب) : نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله "كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ" ومسألة العمارة كثيرة ذكرها في الفصول العمادية والفصولين وغيرها وعبارة المحشي بعد قوله ويكون كالمستعير فيكلف قلعه متى شاء.(العقود الدرية: 2/ 81)
قال العلامۃ خواجه أمين أفندي رحمہ اللہ: (تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم.....) تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي، وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان ،فتقسم الحاصلات على هذه النسبة.(دررالحکام في شرح مجلۃ الأحکام:26/3،المادۃ:(1073
وقال رحمہ اللہ أیضًا:إذا عمرأحدالشريکين الملك المشترك، ففي ذالك احتمالات أربعة .....الاحتمال الثاني :إذا عمر أحدالشريکين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا.....الاحتمال الرابع:إذا عمرأحدالشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه ، فتكون التعميرات المذكورة ملكًاله ،وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغيرالمستهلكة،مالم يكن رفعها مضرا بالأرض ففي هذاالحال يمنع من رفعها. (دررالحکام في شرح مجلۃ الأحکام:314,315/3،المادہ:(1309
وقال رحمہ اللہ أیضًا:لو كانت دار كبيرة مشتركة بين اثنين وكانت محتاجة للتعمير فقال أحد الشريكين للآخر : عمرها من مالك فعمر الشريك، فله أن يأخذ من الشريك الآخر ما يصيب حصته من نفقات التعمير.(دررالحکام في شرح مجلۃ الأحکام:314/3،المادۃ(1309:
وقال رحمہ اللہ أیضًا :إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات
الواقعة للمعمر وملكاً له، فتكون التعميرات المذكورة ملكاً للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه.(دررالحکام في شرح مجلۃ الأحکام:315/3،المادۃ:(1309
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ:(ولو أعار أرضا للبناء والغرس ،صح) للعلم بالمنفعة (وله أن يرجع متى شاء) لما تقرر أنها غير لازمة (ويكلفه قلعهما إلا إذا كان فيه مضرة بالأرض فيتركان بالقيمة مقلوعين) لئلا تتلف أرضه .(الدر المختار:(681/5
قال العلامۃ الحصکفي رحمۃ اللہ علیہ: (ويثبت) الاذن (دلالةً ،فعبد رآه سيده يبيع ملك أجنبي) ..... (ويشتري) ما أراد (وسكت) السيد (مأذون) خبر المبتدأ، إلا إذا كان المولى قاضيا.( الدر المختارعلی التنویر:ص،(608
قال العلامۃأبو محمدالبغدادي الحنفي رحمہ اللہ :ولو استعمل المغصوب بأن كان عبدا فأجره فالأجرة له، ولا تطيب له فيتصدق بها.وكذا لو ربح بدراهم الغصب كان الربح له، ويتصدق به، ولو دفع الغلة إلى المالك حل للمالك تناولها كما في الهداية.( مجمع الضمانات :ص،(130
قال العلامۃبرھان الدین المرعیناني رحمہ اللہ: ولا يضمن الغاصب منافع ما غصبه إلا أن ينقص باستعماله فيغرم النقصان)."الھدایۃ:(304/4
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
27 جمادی الآخرۃ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


