03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرام آمدن والے سے ہدیہ وصول کرنے کا حکم
86296جائز و ناجائزامور کا بیانہدیہ اور مہمان نوازی کے مسائل

سوال

جب کوئی شخص مجھے کچھ دیتا ہے یعنی کپڑا یا جوتے یا خوراک کی چیزیں دیتا ہے ، اور اس کی کمائی صحیح نہ ہو تو کیا میں اسے واپس کر سکتا ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسلمان کی دعوت اور ہدیہ قبول کرنا مسلمان بھائی کا حق ہےلیکن اگر کسی شخص کا اکثرمال حرام ہو تو ایسے شخص سے ہدیہ  وصول کرنا جائز نہیں ہے ،البتہ اگر وہ شخص خود صراحت کردے کہ یہ ہدیہ حلال مال سے خریدا ہے تو اس ہدیہ کو قبول کرنا جائز ہے۔اور اگر اکثر مال حلال ہے تو ایسے شخص سے ہدیہ وصول کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

قال في الهندية :أھدی إلی رجل شیئا أو أضافہ إن کان غالب مالہ من الحلال فلا بأس إلا أن یعلم بأنہ حرام، فإن کان الغالب ھو الحرام ینبغي أن لا یقبل الھدیة ولا یأکل الطعام إلا أن یخبرہ بأنہ حلال ورثتہ أو استقرضتہ من رجل کذا فی الینابیع۔ ولا یجوز قبول ھدیة أمراء الجور؛لأن الغالب في مالھم الحرمة إلا إذا علم أن أکثر مالہ حلال بأن کان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس بہ ؛لأن أموال الناس لا تخلو عن قلیل حرام فالمعتبر الغالب، وکذا أکل طعامھم کذا فی الاختیار شرح المختار.(الفتاوى الهندية:342/5)

قال العلامة أفندي رحمه الله : "آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالاً لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط".(مجمع الأنهر:529/2)

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۰  رجب المرجب ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب