03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازمین کا مالک کی اجازت کے بغیر اسکریپ بیچنا
86406خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں، جہاں ہمیں سٹور سے کام کرنے کے لیے سامان ملتا ہے اور کام ختم ہونے کے بعد بچا ہوا سامان( سکریپ وغیرہ) عام طور پر کام کرنے والے آپس میں بانٹ لیتے ہیں ،کیونکہ سٹور میں واپس جمع کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کمپنی کے مالک کو اس عمل کا  کوئی پتہ نہیں ہوتا اور اس سے کمپنی کے مالک کا منافع کی مد میں کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا، البتہ ورکروں کے انچارج یا انجینئر ز وغیرہ کو معلوم  ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ ایسا کرنا درست ہے کہ نہیں ؟سادہ الفاظ میں، کام کا انچارج یا ورکرز بچا ہوا سامان بیچ سکتے ہیں؟ اورکیا بچا ہوا سامان بیچ کر پیسے کمپنی کے کسی بھی دوسرے کام میں استعمال کر سکتے ہیں؟ یاد رہے کہ بچا ہوا سامان آدھی سے بھی کم قیمت پر بکتا ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت نے صرف اپنا مال بیچنے کی اجازت دی ہے ،کسی  دوسرے مسلمان کا مال اس کی اجازت کے بغیر فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں،لہٰذا  اگر مالک کی طرف سے انچارج یا ورکرز کو   صراحتًا  یا دلالتًا  اجازت ہو، یا  ایسی معمولی چیز ہو کہ وہ مالک کے  لئے ناقابل استعمال ہو تو پھر یہ سکریپ بیچنا درست ہے ،  اور اگر مالک کی طرف سے اجازت نہ ہو  یا قابل استعمال اور قیمتی چیز ہو تو بیچنا جائز نہیں ، نہ اپنے لئے بیچنا جائز ہے اور نہ کمپنی کے لئے بیچنا جائز ہے ۔اپنے لئے بیچنے کی صورت میں فروخت کرنے والا اور خریدنے والا دونوں گناہ گار ہوں گے، اور یہ سکریپ وغیرہ واپس کرنا لازم ہے، اگر وہ ضائع ہوگئی ہوں، تو ان کا تاوان دینا ضروری ہے، البتہ خریدنے والے کو اگر معلوم نہ ہو، تو اسے گناہ نہ ہوگا۔

حوالہ جات

مسند أحمد (34/ 299 ط الرسالة):

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه ‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ ‌   إلا ‌بطيب ‌نفس ‌منه.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(1/ 96):

‌لايجوز ‌لأحد ‌أن ‌يتصرف ‌في ‌ملك ‌الغير ‌بلا ‌إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار.... والإذن إما أن يكون صراحة وإما أن يكون دلالة.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 346):

‌المبطخة ‌إذا ‌قلعت ‌وبقيت ‌فيها ‌بقية فانتهب الناس ذلك إن كان تركها ليأخذها الناس لا بأس بذلك وهو بمنزلة من حمل زرعه وبقي منه سنابل إن ترك ما يترك عادة ليأخذه الناس فلا بأس بأخذه.

فقہ البيوع:(2/1196)

199-الفضولي من تصرف في حق الغير نيابة عنه بغير إذنه. وبيعه موقوف على إذن من له الإجازة. فإن باع فضولي مال غيره، فالبيع موقوف على إجازة المالك. فإن أجازه نفذ البيع من وقت العقد.

202-الإجازة من قِبل المالك قد تكون قولا بما يدل على رضاه بالبيع، مثل قوله: "أجزت". وقد تكون فعلا، مثل أن يقبل الثمن أو بعضه، أو يهبه للمشتري. أما إن كان حاضرا وقت البيع وسكت، فالسكوت لا يعتبر إجازة

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص613):

وحكمه ‌الاثم ‌لمن ‌علم ‌أنه ‌مال ‌الغير ورد العين قائمة والغرم هالكة ولغير من علم الاخيران) فلا إثم لانه خطأ، وهو مرفوع بالحديث.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

14/رجب /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب