03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا ای بے (eBay ) پر بطور کمیشن  کام کرنا جائزہے؟
86748خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ  اللہ وبرکاتہ ۔علما کرام اس مسئلے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ۔  میرے ایک پاکستانی دوست  ،بینکاک (کیپیٹل آف تھائلینڈ )کے رہنے والی ایک عورت کے ساتھ ای بے (eBay)میں آنلائن آرڈرز کرنے کا کام کر رہے ہیں ۔ اس عورت کی امریکن ای بے (eBay)اکاؤنٹ ہے۔ اس میں وہ مختلف قسم کے حلال products   (مثلا گھر کے اشیاء ، بچوں کا سامان وغیرہ) کا کام کرتی ہے اس حال میں کہ  یہ تمام  اشیاء اس کے پاس گودام  میں موجود ہیں۔ میرے دوست اس میں بطور کمیشن کام کرتا ہے۔

 اب سوال یہ ہے کہ اس عورت کے ساتھ بطور کمیشن کام کرنا جائز ہے؟ جواب دے کر مشکور فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ کا دوست  طےشدہ  کمیشن  پر کام کررہاہے اور کاروبار بھی حلال  اشیاء کاہے تویہ کام کرنا  اوراس کی اجرت جائز ہے۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله  تعالى: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.(رد المحتار: 6/ 63)

قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى:وأما ‌الدلال ‌فإن ‌باع ‌العين ‌بنفسه ‌بإذن ‌ربها ‌فأجرته ‌على ‌البائع، ‌وإن ‌سعى ‌بينهما ‌وباع ‌المالك ‌بنفسه ‌يعتبر ‌العرف. )الدر المختار: 400)

محمد مجاہد بن شیرحسن

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

/27 رجب المرجب،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مجاہد بن شیر حسن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب