03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 ہوٹلوں  کے کھانے  میں ناپاکی کے شک وشبہہ کا حکم  
87536پاکی کے مسائلنجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان

سوال

مجھے باہر کے کھانے کے بارے میں  بتا دیں کہ  میں نے انٹرنیٹ پر ہوٹلوں اور کھانے کی فیکٹریوں کی  کچھ ویڈیوز دیکھی ہیں، وہ لوگ بہت گندگی کے ساتھ کھانا بناتے ہیں جس سے یہ ممکن ہے کہ کھانا بناتے وقت گندگی یا بیرئیرز کھانے کے ساتھ مل جائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب تک باہرسے بازاراور ہوٹل کےلائے گئے کھانے میں کسی قسم کی گندگی اور ناپاکی  کا یقین یا غالب گمان نہ ہو تو وہ پاک سمجھا جائے گا،لہٰذا ناپاکی کے غالب گمان کےبغیر  اس سے بچنے کو ضروری سمجھنا غلو ہے جو شرعا منع ہے، باقی کھانے پینے کی چیزوں میں ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی جو  جلد تک پانی پہنچنے  سے مانع ہو،لہٰذا اس سے شک و شبہہ میں نہیں  پڑنا چاہیے۔  

حوالہ جات

تفسير القرطبي (6/ 21):

قوله تعالى: (يا أهل الكتاب لا تغلوا في دينكم) نهي عن الغلو. والغلو التجاوز في الحد، ومنه غلا السعر يغلو غلاء، وغلا الرجل في الأمر غلوا ...فالإفراط والتقصير كله سيئة وكفر، ولذلك قال مطرف بن عبد الله: الحسنة بين سيئتين.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:1/ 151):

من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن، وكذا الآبار والحياض والجباب الموضوعة في الطرقات ويستقي منها الصغار والكبار والمسلمون والكفار، وكذا ما يتخذه أهل الشرك أو الجهلة من المسلمين كالسمن والخبز والأطعمة والثياب اهـ ملخصا.

 محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

     5  /ذوالقعدہ 1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب