03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ویڈیو بنانے کاحکم
86147جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

كيا ويڈيو بنانا جائز ہے، اور اس كے بارے میں  آپ حضرات كا فتوى كيا ہے؟براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ڈیجیٹل تصویراور ویڈیوز  شرعاً تصویر کے حکم میں ہیں یا نہیں؟ اس  مسئلے میں علماء کی آراء مختلف ہیں:

پہلی رائے:یہ عام پرنٹ تصویر کی طرح ہے۔ لہذا صرف ضرورت کے وقت جائز ہے۔

دوسری رائے:یہ عام تصویر کے حکم میں  نہیں، بلکہ سایہ ، پانی یا آیئنہ میں دکھائی دینے والے عکس کے مانند ہے۔ لہذا جس چیز کا عکس دیکھنا جائز ہے اس کی تصویر یا ویڈیو بنانا یا دیکھنا بھی جائز ہےاور جس چیز کا عکس دیکھنا جائز نہیں اس کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور دیکھنا  بھی جائز نہیں۔

تیسری رائے:اگرچہ یہ اپنی حقیقت کے لحاظ سےتصویر ہی کی طرح  ہے ، لیکن  اس کے تصویر ہونے یا نہ ہونے  کے بارے میں علماء کی آراء میں اختلاف ہے۔ اس لیے صرف شرعی ضرورت یا حاجت  جیسا کہ جہاد  کی ضرورت، دین کے خلاف پروپیگنڈوں سے دفاع اور صحیح دینی معلومات کی فراہمی کی خاطر یا اس کےعلاوہ کسی اور دینی یا دنیوی  مصلحت کی خاطر ایسی چیزوں اور مناظر کی ڈیجیٹل تصویر اور ویڈیو بنانے کی گنجائش ہے جن میں تصویر ہونے کے علاوہ کوئی اور حرام پہلو مثلا: عریانیت، موسیقی یا غیر محرم کی تصاویر نہ ہوں۔

ہمارے نزدیک تیسری رائے راجح ہے۔ لہذااس رائے کے مطابق تلاوت، نعت اور امت کی رہنمائی کے لیے بیان وغیرہ کی ویڈیو بنائی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات

(مأخذه:التبویب،فتوی نمبر:82186)

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۰۱رجب المرجب  ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب