| 86549 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
شوہر نے غصے میں بیوی کا موبائل توڑ دیا، بیوی نے کہا کہ میں آ پ کا موبائل بھی توڑ دوں گی ، شوہر نے کہا کہ اگر تم نے میرا موبائل توڑا تو تمہیں طلاق اور شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے ایسا اس لیے کہاتھا کہ ان دنوں میری کلاسز چل رہی تھی موبائل پر ، اسوقت میری نیت طلاق کی تھی۔ اب اگر بیوی جب بھی وہ موبائل توڑے گی یا شوہر کا دوسرا موبائل توڑے گی تو طلاق ہو جائے گی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ تفصیل کے مطابق بیوی کو شوہر کا یہ کہنا کہ ’’اگر تم نے میرا موبائل توڑا تو تمہیں طلاق‘‘، یہ یمین الفور کی صورت ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر شرط (موبائل توڑنے) کا وقوع اسی وقت ہو جائے تو طلاق نافذ ہو جائے گی، لیکن اگر شرط بعد میں پائی جائے تو طلاق نہیں ہوگی ، لہٰذا جب بیوی نے موبائل نہیں توڑا تو طلاق واقع نہیں ہوئی اور آئندہ اگر موبائل توڑے گی تو بھی طلاق نہیں ہوگی کیونکہ شرط کے وقوع کا وقت گزر چکا ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ برھان الدین المرغناني رحمہ اللہ:(ولو أرادت المرأة الخروج فقال إن خرجت فأنت طالق، فجلست ثم خرجت، لم يحنث) وكذلك إذا أراد رجل ضرب عبده، فقال له آخر : إن ضربته فعبدي حر، فتركه ثم ضربه وهذه تسمى يمين فور. وتفرد أبو حنيفة رحمه الله بإظهاره. ووجهه أن مراد المتكلم الرد عن تلك الضربة والخرجة عرفا، ومبنى الأيمان عليه.(فتح القدير :5/ 113)
قال العلامۃ ابن الھمام رحمہ اللہ:قوله: ولو أرادت المرأة الخروج ،فقال: إن خرجت فأنت طالق، فجلست ثم خرجت لم يحنث، وكذلك إذا أراد رجل ضرب عبده ،فقال له آخر: إن ضربته فعبدي حر فتركه ثم ضربه، وهذه تسمى يمين الفور، انفرد أبو حنيفة رضي الله عنه بإظهارها) وكانت اليمين في عرفهم قسمين: مؤبدة وهي أن يحلف مطلقا ومؤقتة وهي أن يحلف أن لا يفعل كذا اليوم أو هذا الشهر.فأخرج أبو حنيفة رضي الله عنه يمين الفور وهي يمين مؤبدة لفظا مؤقتة معنى تتقيد بالحال، وهي ما يكون جوابا لكلام يتعلق بالحال مثل أن يقال لآخر تعال تغد عندي فيقول إن تغديت فعبدي حر فيتقيد بالحال. فإذا تغدى في يومه في منزله لا يحنث لأنه حين وقع جوابا تضمن إعادة ما في السؤال والمسئول الحالي فينصرف الحلف إلى الغداء الحالي لتقع المطابقة فلزم الحال بدلالة الحال.(فتح القدير :5/ 113)
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ: (وشرط للحنث في) قوله (إن خرجت مثلا) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب(فعله فورا) لأن قصده المنع عن ذلك الفعل عرفا ومدار الأيمان عليه، وهذه تسمى يمين الفور، تفرد أبو حنيفة رحمه الله بإظهارها ولم يخالفه أحد. (رد المحتار :3/ 761)
احسان اللہ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
/19رجب1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ بن سحرگل | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


