| 86233 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک صاحب نے انتقال سے پہلے میراث میں کچھ حصہ تقسیم کیا اور کچھ چھوڑ دیا ۔انتقال کے بعد ان کی میراث میں ایک گھر اور سامان تجارت تھا جس کی لاگت چار کروڑ ہے۔ انتقال سے پہلے انہو ں نے وصیت کی کہ بچا مال اور جائیداد سب مدرسہ ومسجدکو دیدو۔ اولاد کو کچھ نہیں ملے گا۔ اس کا کیا حکم ہے؟ وصیت پر عمل ہوگا یا میراث میں تقسیم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث کا تعلق آدمی کے مرنے کے بعدچھوڑے ہوئے ترکہ سے ہے۔لہذا مرحوم نے انتقال سے پہلے جوکچھ تقسیم کیا ہے وہ میراث شمار نہ ہوگا،بلکہ اس کی حیثیت ہدیہ کی ہوگی۔انتقال کے بعد مرحوم کے کل ترکہ کے ایک تہائی میں وصیت جاری ہوگی(یعنی وہ مسجد یا مدرسے کو دے دیں) اور باقی مال ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا۔ایک تہائی سے زیادہ میں وصیت جاری نہیں ہوگی،تاہم اگر تمام ورثہ بالغ ہوں اور رضامندی کے ساتھ ایک تہائی سے زائد مال میں وصیت کو جاری رکھنے کی اجازت دیں، تو پھر ایک تہائی سے زائد میں بھی وصیت جاری ہوسکتی ہے۔
حوالہ جات
ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية. ( الفتاوى الهندية:6/ 90) (وأما) السنة فما روي أن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه وهو سعد بن مالك كان مريضا فعاده رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله: أوصي بجميع مالي؟ فقال: لا، فقال بثلثي مالي؟ قال: لا، قال: فبنصف مالي؟ قال: لا قال: فبثلث مالي؟ فقال عليه السلام الثلث، والثلث كثير إنك أن تدع ورثتك أغنياء خير من أن تدعهم عالة يتكففون الناس .وروي: فقراء يتكففون الناس فقد جوز رسول الله صلى الله عليه وسلم الوصية بالثلث.وروي عنه عليه الصلاة والسلام أنه قال: إن الله تبارك وتعالى تصدق عليكم بثلث أموالكم في آخر أعماركم زيادة على أعمالكم فضعوه حيث شئتم .أخبر عليه الصلاة والسلام أن الله تبارك وتعالى جعلنا أخص بثلث أموالنا في آخر أعمارنا لنكسب به زيادة في أعمالنا.والوصية تصرف في ثلث المال في آخر العمر زيادة في العمل فكانت مشروعة. (بدائع الصنائع:7/ 330)
(وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليهإلا أن تجيز ورثته بعد موته). (الدر المختار مع رد المحتار:6/ 650)
(و) تصح (بقبول) أي في حق الموهوب له أما في حق الواهب فتصح بالإيجاب وحده؛ لأنه متبرع... (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل. (الدر المختار مع رد المحتار:5/ 690)
محمد علی بن محمد عبداللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
8/رجب المرجب1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


