03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عشرادائیگی سےپہلےاخراجات منہا کرنے کا حکم
86292زکوة کابیانعشر اور خراج کے احکام

سوال

وہ فصلیں جن کو کاشت کرنے میں اخراجات کی لاگت زیادہ آتی ہے اور منافع بسا اوقات کم ہوتا ہے  بیج،کھاد،ادویات، زمین کی کرایہ  اور دوسرے اخراجات  کے زیادہ ہونے کی وجہ سے تو اس صورت میں کیا عُشر اخراجات نکال کے ادا ہو سکتا ہے ؟ مثلاً آمدنی دس لاکھ ہو اور اخراجات ساڑھے نو لاکھ ہوں اور اخراجات نکالے بغیر آمدنی پر عشر ادا کر لیا جائے  تو کل کمائی  تو عُشر میں ہی چلی جائے  گی تو اس صورتحال میں کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زمین سے پیداوارکے حصول پر جواخراجات(کھاد،اسپرے،حفاظت وغیرہ) آتے ہیں ان کی وجہ سے عشر(زمین بارانی ہونے کی صورت میں) نصف عشر(نہری اورٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب ہونے کی صورت) کی شرح میں کمی نہیں کی جائے گی،یعنی ان کومنہا  کیے بغیرعشریانصف عشرلازم ہوگا۔ زمین کو کاشت کے قا بل بنانے کے لیے جو اخراجات ہوتے ہیں جیسے  زمین کو ہموار کرنے، ٹریکٹر چلانے، مزدور کی اجرت وغیرہ ،یہ اخراجات عشر ادا کرنے سے پہلے منہا نہیں کیےجائیں گے، بلکہ عشر  یا نصفِ عشر اخراجات نکالنے سے پہلے پوری پیداوار سے ادا کیا جائے گا  ،اور    پیداوار کی کٹائی کے بعد وہ اخراجات جو  زراعت کے امور سے متعلق  نہیں جیسے پیداوار کو منڈی تک پہنچانے  کا کرایہ، اسی طرح پیکنگ، لوڈنگ ، اور فروخت سے متعلق وغیرہ کے جو اخراجات ہوتے ہیں تو ایسے اخراجات عشر ادا کرنے سے پہلے منہا کیے جاسکتے ہیں ۔

حوالہ جات

قبل رفع مؤن الزرع) بضم الميم وفتح الهمزة جمع المؤنة وهي الثقل والمعنى بلا إخراج ما صرف له من نفقة العمال والبقر وكري الأنهار وغيرها مما يحتاج إليه في الزرع.
 (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:1/ 216)
وَفِيمَا سقِي بغرب أَو دالية أَو سانية نصف الْعشْر قبل رفع مُؤَن الزَّرْع ...الخ  ٓ ٓ(ملتقى الأبحر: 319)
وفی الھندیۃ:ولا تحسب أجرة العمال ونفقة البقر، وكري الأنهار، وأجرة الحافظ وغير ذلك فيجب إخراج الواجب من جميع ما أخرجته الأرض عشرا أو نصفا كذا في البحر الرائق.، ولا يأكل شيئا من طعام العشر حتى يؤدي عشره كذا في الظهيرية. (الفتاوى العالمكيرية :1/ 187)
(قوله: بلا رفع مؤن) أي يجب العشر في الأول ونصفه في الثاني بلا رفع أجرة العمال ونفقة البقر وكري الأنهار وأجرة الحافظ.....۔ ( رد المحتار :2/ 328)
ولا يحتسب لصاحب الأرض ما أنفق على الغلة من سقي، أو عمارة، أو أجر الحافظ، أو أجر العمال، أو نفقة البقر… ۔( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:2/ 62) التبویب  .فتوی نمبر : 78438

عبدالوحیدبن  محمد طاہر
دارالافتاءجامعہ الرشید  ،کراچی
۱۲رجب المرجب  ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالوحید بن محمد طاہر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب