| 85649 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
سید ضیاء الدین شاہ نے مسماة قرة العین ملک سے 24/12/2006 کو نکاح کیا تھا،نکاح نامہ استفتاء کے ساتھ لف ہے،بوقت نکاح لڑکی کینیڈا میں رہائش پذیر تھی،جبکہ لڑکا پاکستان میں قیام پزیر تھا،نکاح کے بعدرخصتی سے پہلے لڑکے کو کینیڈا کی ایک عدالت کی طرف سے نوٹس آیا کہ آپ یہاں اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں حاضر ہوجائیں،کیونکہ آپ کی منکوحہ آپ سے خلع کی طلبگار ہے،لڑکے نے عدالت کو پیغام بھیجا کہ ویزہ کی دشواری ہے،لہذا عدالت اس کا بندوبست کرے ،تاکہ لڑکا عدالت میں حاضر ہوسکے،اس کے ٹھیک ایک مہینے بعد لڑکے کو کینیڈین عدالت کی طر ف سے یک طرفہ خلع کا نوٹس ملا،اب سوال یہ ہےکہ کیا یکطرفہ خلع جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین (عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، لہذا خلع کے لیے شوہر کی رضامندی اور اجازت ضروری ہے، اگر شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر بیوی عدالت سے خلع لے اور عدالت اس کے حق میں یک طرفہ خلع کی ڈگری جاری کردے تو شرعاً ایسا خلع معتبر نہیں ہوتا، اس سے نکاح ختم نہیں ہوتا،اسی طرح غیرمسلم عدالت سے مسلمان کے خلاف خلع کا فیصلہ لینا بھی معتبر نہیں ہے،جیساکہ آگے مسئلہ میں اس کی تفصیل آرہی ہے۔
حوالہ جات
وفي البدائع(4/430):
وأما ركنه(الخلع) فهو الايجاب والقبول لانه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 439) :
الخلع (هو) لغة الإزالة، وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها بلفظ الخلع أو ما في معناه).وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
22/ جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


