| 87316 | نماز کا بیان | قضاء نمازوں کا بیان |
سوال
اگر کوئی شخص پانچ دن تک فجر کی نماز قضا کر دے اور ادا نہ کرے تو کیا اس کی باقی چار وقت کی نمازیں نہیں ہوں گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی شخص صاحب ترتیب ہو اور اس کی کوئی نماز قضاء ہو جائے، پھر فوت شدہ نماز ادا کیے بغیر اگلی چھ نمازیں پڑھ لے تو اس کی ادا کی گئی ساری نمازیں درست ہو جاتی ہیں۔ صورت مسئولہ میں جب سائل نے فجر کی نماز چھوڑ دی اور پھر چھ نمازوں کا وقت گزر گیا اور اس دوران اس نے پہلی فجر کی نماز ادا نہیں کی تو یہ شخص صاحب ترتیب نہیں رہا ،لہذا اس کی باقی چار وقت کی نمازیں ادا ہو جائیں گی اور ان کو لوٹانا ضروری نہیں۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي (1/ 244):
(رجل ترك صلاة واحدة ثم صلى شهرا وهو ذاكر لها فعليه أن يقضي تلك الصلاة وحدها استحسانا)، وإن كان صلى يوما أو أقل من ذلك أعاد ما صلى بعدها في هذه عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، وهذه المسألة التي يقال لها واحدة تفسد خمسا، وواحدة تصحح خمسا؛ لأنه إن صلى السادسة قبل الاشتغال بالقضاء صح الخمس عنده، وإن أدى المتروكة قبل أن يصلي السادسة فسد الخمس،
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 121):
الترتيب بين الفائتة والوقتية وبين الفوائت مستحق،
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
01/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


