| 87301 | رضاعت کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ایک لڑکے نے اپنے نانا کی دوسری بیوی یعنی دوسری نانی کا دودھ پیا ہوا ہے جبکہ لڑکے کی والدہ نانا کی پہلی بیوی سے ہے ،تو کیا فرماتے ہیں اس بارے میں کہ لڑکے کا نکاح نانا کی پہلی بیوی کی اولاد کی اولاد کے ساتھ یعنی اپنے حقیقی خالہ اور مامو ں کی بیٹیوں کے ساتھ ہو سکتا ہے؟ یاد رہے کہ یہ خالہ اور ماموں پہلی بیوی سے ہیں یعنی لڑکے کی ماں کے سگے بہن بھائی ہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حرمت رضاعت کے حوالے سے دو اصولی باتیں واضح ہوں: اول یہ کہ حرمت رضاعت جس طرح عورت سے ثابت ہوتی ہے اسی طرح وہ مرد جس کی وجہ سے عورت کا دودھ اترا ہواُس مرد سے بھی حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے، دوسری بات یہ کہ حرمت رضاعت چونکہ دودھ کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے اور عورت کے دودھ اترنے کی اصل وجہ حمل اور ولادت ہوتی ہے ، لہذا حرمت رضاعت اس مرد سے ثابت ہوتی ہے، جو بچے کے دودھ پینے سے قبل آخری مرتبہ عورت کے حمل ٹھہرنے اور ولادت کی وجہ بناہو ۔
صورت مسئولہ میں لڑکے نے اپنی دوسری نانی(سوتیلی) کا دودھ پیا، اگر تو دودھ اترنے کی وجہ لڑکے کے نانا تھےتو اس صورت میں نانا کی دونوں بیویوں سے تمام اولاد اس لڑکے کے رضاعی بہن بھائی ہیں ، یعنی لڑکے کے ماموں رضاعت کے اعتبار سے اس کے رضاعی بھائی ہیں اور خالائیں رضاعی بہنیں ہیں، یوں رضاعی بھائی (ماموں) کی بیٹیاں رضاعت کے اعتبار سے لڑکے کی بھتیجیاں ہوئی اور رضاعی بہنوں (خالہ )کی بیٹیاں لڑکے کی بھانجیاں ہوئی۔
لہذا جس طرح حقیقی بھتیجیوں اور بھانجیوں کے ساتھ نکاح درست نہیں ، بالکل اسی طرح رضاعی بھتیجیوں اور بھانجیوں کے ساتھ نکاح بھی درست نہیں.
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 343):
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 242) :
(قوله: زوج مرضعة لبنها منه أب للرضيع وابنه أخ وبنته أخت وأخوه عم وأخته عمة) بيان؛ لأن لبن الفحل يتعلق به التحريم؛ لعموم الحديث المشهور، وإذا ثبت كونه أباً له لايحل لكل منهما موطوءة الآخر، والمراد به اللبن الذي نزل من المرأة بسبب ولادتها من رجل زوج أو سيد، فليس الزوج قيداً في كلامه، قال في الجوهرة: وإنما خرج مخرج الغالب وإذا ثبتت هذه الحرمة من زوج المرضعة فمنها أولى.
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 356):
(ويثبت به) أي بالرضاع (وإن قل) ، وعند الشافعي لا يثبت التحريم إلا بخمس رضعات يكتفي الصبي بكل واحدة منها (أمومة المرضعة) فاعل يثبت (للرضيع وأبوة زوج مرضعة لبنها منه) أي من ذلك الزوج (له) أي للرضيع يعني يثبت بالرضاع كون المرضعة أما للرضيع وكون زوجها أبا له إذا كان لبنها منه حتى إذا لم يكن لبنها منه بأن تزوجت ذات لبن رجلا فأرضعت به صبيا فإنه لا يكون ولدا له من الرضاع، بل يكون ربيبه من الرضاع حتى يجوز له أن يتزوج بأولاد الزوج الثاني من غيرها وبأخواته كما في النسب ويكون ولدا للزوج الأول ما لم تلد من الثاني فإذا ولدت منه فأرضعت صبيا فهو ولد الثاني بالاتفاق؛ لأن اللبن منه، وإن لم تحبل من الثاني فهو ولد الأول بالاتفاق؛ لأن اللبن منه۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
28/شوال /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


