| 85742 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو تجدید نکاح کےلیے "وھبتک نفسک أو ملکتک نفسک" سے نکاح منعقد ہوجائے گا؟اگر نہیں توپھرنکاح کا بالکل مختصر طریقہ بتادیں،اگر طلاق کے بعد عدت وغیرہ کی شرط ہے تو وہ بھی بتادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اوپر ذکرکردہ صورت کے مطابق اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو پھرطلاق کے وقت سے عدت بھی شروع ہوجاتی ہے،تجدیدِ نکاح کا طریقہ بھی عام نکاح کی طرح ہے، دو مسلمان عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ ایجاب و قبول کیا جائے، نکاح کے وقت خطبے کی بھی فضیلت ہے،مگر نکاح اس کے بغیر بھی درست ہے،ہبہ اور تملیک کے الفاظ سے بھی نکاح منعقد ہوجاتاہے،تاہم اس کے لیے جملہ کی بناوٹ درست ہونی چاہیے،اوپر سوال میں موجود جملے درست نہیں ۔بہتر یہ ہے کہ اپنی مقامی زبان میں ایجاب وقبول کیاجائے
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
04/ جمادی الثانیة 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


