| 86589 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
عرض یہ ہے کہ جامعۃ الرشید احسن آباد کےبالکل قریب یتیم بچوں کا رہائشی ادارہ ماویٰ کمپلیکس کراچی تعمیر ہونے جا رہا ہے ،جس میں نمازوں کی ادائیگی کے لئے وسیع مصلی (جائے نماز) بھی موجود ہوگا۔مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ بچوں کی بڑی تعداد کو نگرانی کے ساتھ ہر نماز میں جامع مسجد جامعۃ الرشید لانے اور لے جانے میں مسائل ہیں تو کیا اسی ادارے میں بچے اور عملہ باجماعت نماز ادا کرسکتےہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چھوٹے بچوں کی بڑی تعداد کو نگرانی کے ساتھ ہر نماز کے لیے جامعہ مسجد لانا اور واپس لے کر جانا انتظامیہ کے لیے حرج کا باعث ہے اور چونکہ کمپلیکس میں وسیع مصلہ موجود ہے اور باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے انتظام ہو سکتا ہے ،لہذا اس مصلہ میں نابالغ بچوں کے لیے جماعت کرانا جائز ہے،البتہ بالغ بچوں کو مسجد لانے کی ترتیب بنانا ضروری ہے۔
حوالہ جات
شرح القواعد الفقهية (ص157):
المشقة تجلب التيسير لأن الحرج مدفوع بالنص،
أصول السرخسي = تمهيد الفصول في الأصول - ت الأفغاني (2/ 203):
الحرج مدفوع
الفتاوی الہندیة 1/ 116
وإن صلی بجماعة فی البیت اختلف فیہ المشایخ والصحیح أن للجماعة فی البیت فضیلة وللجماعة فی المسجد فضیلة أخری فإذا صلی فی البیت بجماعة فقد حاز فضیلة أدائہا بالجماعة وترک الفضیلة الأخری.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص286):
قوله: "سنة في الأصح" وفي البدائع عامة المشايخ على الوجوب وبه جزم في التحفة وغيرها وفي جامع الفقه أعدل الأقوال وأقواها الوجوب ومنهم من قال إنها فرض كفاية وبه قال الكرخي والطحاوي وجماعة من أصحابنا وقيل إنها فرض عين وهو قول الإمام أحمد كذا في الشرح والقائل بالفرضية لا يشترطها للصحة فتصح ولو منفردا كما في شرح ابن وهبان والجماعة في اللغة الفرقة المجتمعة وشرعا الإمام مع واحد سواء كان رجلا أو امرأة حرا أو عبدا أو صبيا يعقل أو ملكا أو جنيا في مسجد أو غيره وفي القنية الأصح أن إقامتها في البيت كإقامتها في المسجد وإن تفاوتت الفضيلة
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
22/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


